کرناٹک انتخابات: بی جے پی شام تک ایوان میں اکثریت ثابت کرے، سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی سپریم کورٹ نے جنوبی ریاست کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ سنیچر کی شام چار بجے ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرے۔

کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی لیکن 224 رکنی ایوان میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔

نتائج کے اعلان کے بعد کانگریس پارٹی نے کرناٹک کی علاقائی جماعت جنتا دل سیکولر کی حمایت کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن دونوں جماعتوں کے اتحاد کو ایوان میں واضح اکثریت حاصل ہونے کے باوجود ریاست کے گورنر نے بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دی تھی۔

کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کی حلف برداری

گھوڑوں کے لیے خوشخبری!

کرناٹک میں بی جے پی جیت کر بھی ہار گئی

انھوں نے بی جے پی کو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا تھا۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق گورنر کے فیصلے کو کانگریس اور جنتا دل سیکولر نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن عدالت نے رات کے تین بجے تقریباً تین گھنٹے تک ان کی پٹیشن پر سماعت کرنے کے بعد حلف برداری کی تقریب روکنے سے انکار کر دیا تھا۔

لیکن سپریم کورٹ نے آج مختصر سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اکثریت ثابت کرنے کے لیے اتنا وقت دینے کا کوئی جواز نہیں ہے اور بی جے پی کی حکومت کو سنیچر کی شام چار بجے اکثریت ثابت کرنا ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عدالت نے ریاستی حکومت پر اس دوران کوئی اہم فیصلہ کرنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

کانگریس نے کہا کہ یہ جمہوریت کی فتح ہے اور عدالت کے فیصلے پر پورے ملک میں جشن منایا جانا چاہیے۔

بی جے پی کے لیے یہ بری خبر ہے کیونکہ اکثریت ثابت کرنے کے لیے اسے کانگریس یا جنتا دل سیکولر کے کم سے کم آٹھ اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل کرنا ہوگی جو اب ممکن نظر نہیں آتا۔

’کرناٹک کی انتخابی بساط پر بہت کچھ داؤ پر‘

بی جے پی کی کرناٹک میں برتری

انڈیا میں اراکین اسمبلی اور پارلیمان کو پارٹی بدلنے سے روکنے کے لیے ایک سخت قانون موجود ہے، اور اگر کوئی قانون ساز پارٹی کی ہدایت کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کی رکنیت ختم کی جاسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بی جے پی کے وکیل مکل روہتگی نے سماعت کے دوران عدالت سے درخواست کی کہ ووٹنگ خفیہ بیلٹ کے ذریعہ کرائی جائے لیکن عدالت نے اس تجویز کو بھی مسترد کر دیا۔

اگر بی جے پی کو یہ لگتا ہے کہ وہ ایوان میں اکثریت ثابت نہیں کر پائے گی تو یہ ممکن ہے کہ وزیر اعلیٰ یدورپا ووٹنگ سے پہلے ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

بی جے پی سے دور رکھنے کے لیے کانگریس اور جنتا دل سیکولر نے اپنے اراکین اسمبلی کو حیدرآباد کے ایک ہوٹل میں منتقل کر دیا تھا اور وہ پوری رات کا سفر کرنے کے بعد جمعہ کی صبح ہی وہاں پہنچے تھے۔

اب انہیں واپس لانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ اگر یدورپا اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر جنتا دل سیکولر کے رہنما کماراسوامی کے وزیر اعلیٰ بننے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں