کراچی میں سیاسی جنگ، کس کی ہوگی جیت؟

تحریر: زبیر نیازی

کراچی میں دن بدن بڑھتی سیاسی سرگرمیاں دیکھ کر اُمید ہو چلی ہے کہ بدامنی کا طویل سفر اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ گیارہ برس پہلے جس بارہ مئی کو خون کی ہولی کھیلی گئی، وہ کون بھلا سکتا ہے، لیکن اس بارہ مئی پر حالات بالکل مختلف رہے، پتہ ٹوٹا نہ گملا، جوق در جوق سیاسی کارکنوں کے قافلے جلسہ گاہوں کی طرف بڑھتے دکھائی دیے۔ تحریک انصاف نے الہ دین پارک گرآونڈ میں پنڈال سجا رکھا تھا۔ ویسے تو تحریک انصاف کراچی میں 25دسمبر 2011 کے اپنے ہی جلسے کا ریکارڈ ابھی تک نہیں توڑ پائی ہے لیکن شہر میں سخت گرمی اور ورکنگ ڈے کی مناسبت سے دیکھا جائے تو یہ حاضری کچھ کم نہیں تھی۔ عمران  خان نے صحت، تعلیم، امن وامان اور ماحولیات سمیت دس نکاتی پیکیج کا اعلان کرکے اپنی پارٹی کا مضبوط بیانیہ عوام کے سامنے پیش کیا۔ اسے کتنی پذایرائی ملتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ لیکن مقامی قیادت کو بھی اب متحرک ہونا پڑے گا کیوں کہ جلسوں اور الیکشن ڈے کی سائنس بالکل مختلف ہے،دوسری طرف پیپلزپارٹی نے مزارقائد سے منسلک باغ جناح میں پنڈال سجا رکھاتھا، چند روز قبل دونوں بڑی جماعتوں یعنی پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں میں تصادم بھی دیکھاگیا، وجہ یہ بنی کہ دونوں جماعتیں بارہ مئی کو گلشن اقبال کے حکیم سعید گراونڈ میں جلسہ کرنا چاہتی تھیں۔ حکیم سعید گراونڈ کا علاقہ ایم کیوایم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، گراؤنڈ بھی وسیع اور بالکل سڑک کے ساتھ ہے، اگر یہاں پی ٹی آئی کا اچھا شو ہو جاتا تو سیاسی طور پر انہیں بڑا فائدہ ہوتا۔

چوں کہ پیپلزپارٹی گزشتہ دس برسوں سے اقتدار میں ہے، اُسے جو کرنا تھا اور وہ جو کر سکتی ہے وہ سب کے سامنے ہے، اُسے جلسوں کے ذریعے عوام تک پہنچانے کی ضرورت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر کا زیادہ تر حصہ بارہ مئی سانحہ پر ہی گفتگو کی لیکن شہر میں تحریک انصاف کی انٹری کو بھی نہ بھولے۔ وہ تو یہاں تک کہہ گئے کہ کراچی والے عمران خان کی شکل میں دوسرے بانی ایم کیوایم کو برداشت نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے وسیم اختر کو بارہ مئی سانحہ کا ذمہ دار ٹھہرایا جو اس وقت کراچی کے میئر ہیں، بلاول کی ان دونوں باتوں کو عوام کس حد تک سنجیدگی سے لیتے ہیں، یہ فیصلہ بھی ہم عوام پر چھوڑتے ہیں۔ ایم کیوایم، جو گزشتہ دو سے زائد عشرے تک کراچی کے سیاہ سفید کی مالک رہی، ان دنوں شدید مشکلات کا شکار ہے، پارٹی کے حصے بخرے ہوچکے ہیں، ان کی پریشانی میں چند روز قبل اُس وقت مزید اضافہ ہوا جب پیپلزپارٹی نے ایم کیوایم کے گڑھ لیاقت آباد ٹنکی گراونڈ میں جلسہ کیا، یہ جلسہ ایم کیو ایم کے اعصاب پر اس قدر سوار ہوا کہ بھاگم بھاگ نہ چاہتے ہوئے بھی ساری قیادت ایک جگہ پر اکٹھی ہوئی اور ٹنکی گراونڈ میں جلسہ کرلیا۔ اگر آپ رہنماوں کی تقریریں سُن لیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ان کے پاس اب  پروگرام تو دور الفاظ تک نہ تھے کہ وہ کچھ بیان کرسکیں، ہر لیڈر ایسے نظر آیا جیسے اُسے دھکا دے کر اسٹیج پر بھیجا گیاہو۔ الیکشن ڈے پر بھی اگر وہ اسی طرح تتر بتر رہے تو پھر ایم کیوایم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ شہبازشریف بھی ان دونوں کراچی اور سندھ کے دورے پر دورے کر رہے ہیں۔ ن لیگ پورے ملک میں بالخصوص اور کراچی میں بالعموم امن لانے کا کریڈ لیتی ہے اور انہی لینا بھی چاہیے کہ امن بالاخر ان ہی کے دور میں آیا ہے اس لیے جب شہبازشریف لیاری پہنچے تو وہاں اُنہیں بھر پور پذیرائی ملی۔ لیکن جس طرح امن کا کریڈٹ ن لیگ کو جاتا ہے اسی طرح ملک پرقرضوں کے انبار، مہنگائی، اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ ہونا بھی اُنہیں کے کھاتے میں جائے گا۔ دوسری طرف ن لیگ کو وفاق میں درپیش مشکلات بھی ایک الگ کہانی ہے۔

کراچی میں جماعت اسلامی کا بھی اچھا خاصہ ووٹ بینک ہے ۔ شہر کی ترقی میں نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کی کاوشوں کو لوگ آج تک فراموش نہیں کر پائے ہیں۔  اسی چیز کو جماعت اسلامی نے اب نعرے کی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ مرکز میں اُن کا نعرہ بھلے ہی کچھ اور ہو لیکن کراچی میں اب ‘گو امریکہ گو کے بجائے ‘کے الیکٹرک مردہ باد کے نعرے سُنائی دے رہے ہیں۔ جو ہو رہا ہے بہتری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ شہر جو کبھی اپنے خوبصورت موسم، دلکش ساحل اور کم پیسوں میں تفریح کے بے شمار مواقع فراہم کرنے کی وجہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا، بدامنی کا ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد اپنی اصل کی طرف لوٹ رہا ہے۔  تفریح گاہوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں، سینما، آرٹ، کلچر فروغ پا رہا ہے۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ زخموں سے چور چور کراچی والے اب کی بار ان مدھم روشنیوں کے چراغ بجھنے نہیں دیں گے اور آنے والے الیکشن میں خوب سوچ سمجھ کر اپنا ووٹ استعمال کریں گے

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں