الیکٹرانک سگریٹ پھٹنے سے امریکی شہری ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ اس الیکٹرانک سگریٹ کے پھٹنے سے اس شخص کے جسم کا 80 فیصد حصہ بھی جل گیا

ایک امریکی شہری کے پوسٹ مارٹم سے پتا چلا ہے کہ ان کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب ایک الیکٹرانک سگریٹ کے پھٹنے کے بعد اس کے ٹکڑے ان کی کھوپڑی میں جا لگے۔

تفتیش کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ اس الیکٹرانک سگریٹ کے پھٹنے سے اس شخص کے جسم کا 80 فیصد حصہ بھی جل گیا۔

38 سالہ تالمدگے ڈی ایلیا کو ریاست رلوریڈا میں شہر سینٹ پیٹرز برگ میں آگ بجھانے کے عملے نے ان کے جلتے ہوئے بیڈ روم سے نکالا۔ پیسے کے لحاظ سے وہ ایک ٹی وی پروڈیوسر تھے۔

یہ بھی پڑھیے

سگریٹ چھوڑنے کا ‘گرل فارمولہ’

’سگریٹ نوشی کی کوئی محفوظ حد نہیں‘

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ الیکٹرانک سگریٹ سے پہلی ہلاکت ہے۔ حکام نے ان کی ہلاکت کو ایک حادثہ قرار دے دیا ہے۔

ان کی لاش کے طبی معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ الیکٹرانک سگریٹ کے دو ٹکڑے ان کے دماغ تک پہنچ گئے تھے۔ امدادی عملے کی رپورٹ کے مطابق انھیں آگ لگنے سے عمارت کو ہونے والا نقصان تو نظر آیا تاہم ان کے وہاں پہنچنے پر دھواں ہی کم تھا۔

میڈیکل افسر کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک سگریٹ ’سموک۔ ای ماؤنٹین‘ نامی کمپنی کا تھا۔

ان کے والد نے شدید غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس کسی کی اولاد اس سے بچھڑی ہو وہ جانتا ہے کہ کوئی بھی اپنے بچے کو اس انداز میں نہیں کھونا چاہتا۔

امریکی فائر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 2009 سے 2016 کے درمیان الیکٹرانک سگریٹ پھٹنے کے 195 واقعات پیش آئے جن کے نتیجے میں 133 لوگ زخمی ہوئے اور 38 کی حالت تشویش ناک تھی۔

2015 میں ایک 29 سالہ شخص کے چہرے کے قریب الیکٹرانک سگریٹ کے پھٹنے سے ان کی گردن ٹوٹ گئی اور جبڑا تباہ ہوگیا تھا۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں