سب سے زیادہ تنخواہ کس کو ملنی چاہیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہاؤس وائف ہونا بہت مشکل کام ہے

کیا آپ ایسی نوکری کرنا چاہیں گے جس میں ہر روز سولہ سے سترہ گھنٹے کام کرنا پڑے، ہفتے میں کسی دن کوئی چھٹی نہ ملے اور کوئی تنخواہ بھی نہ ہو اور پھر یہ پوچھا جائے کہ تم کام کیا کرتے ہو۔

دراصل ملک کا ایک بڑا طبقہ ایسی ہی نوکری کر رہا ہے۔۔۔ وہ عورتیں جنہیں ہم ’ہاؤس وائف‘، ’ہوم میکر‘ یا گھریلو خواتین کہتے ہیں۔

بھارت میں ہاؤس وائف کے حوالے سے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ کچھ ہی دن پہلے بھارت کی ریاست کرناٹک کی ہائی کورٹ نے ایک کیس میں اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود عورتیں ہی ہیں‘

ماں کا دودھ اب سوشل میڈیا پر بھی دستیاب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گھر پر رہنے والی عورتوں کو ہر روز سولہ سے سترہ گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے

دراصل ایک شادی شدہ جوڑے کی طلاق کا کیس چل رہا تھا اور بیوی کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے مظفر نگر سے بنگلورو پہنچنا تھا۔ وہ فلائٹ سے جانا چاہتی تھیں لیکن شوہر چاہتے تھے کہ وہ ٹرین سے جائیں۔ محض اس لیے کہ وہ ایک ہاؤس وائف ہیں اور اُن کے پاس بہت وقت ہے۔

جسٹس رویندر ایس چوہان شوہر کی اس بات سے متفق نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہاؤس وائف بھی اتنی ہی مصروف ہوتی ہے جتنا کوئی باہر جا کر کام کرنے والا شخص۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’گھر کا کام بھی چیلنجنگ ہوتا ہے‘

اس کیس کے بارے میں جاننے کے بعد دلی میں رہنے والی کاجل کا کہنا تھا کہ ’جب کوئی مرد کام سے واپس آتا ہے تو عورتیں اس کے لیے چائے پانی لیکر تیار رہتی ہیں جبکہ ہم بھی دن بھر کام کرتے ہیں تو ہمارے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوتا۔`

تین سال کی بچی کو گود میں لیے بیٹھی نیہا کا کہنا تھا کہ ’گھر میں سب سے پہلے ہم اٹھتے ہیں اور رات میں سب سے آخر میں بستر پر ہم جاتے ہیں اور پھر سننے کو ملتا ہے کہ ہم کرتے ہی کیا ہیں۔‘

چار بچوں کی ماں سنیتا جب اپنے کام گنوانے بیٹھتی ہیں تو جیسے لِسٹ ختم ہی نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہاؤس وائف پر گھر کے بزرگوں، بچوں اور شوہر کی ذمہ دار ہوتی ہے

ایک اور خاتون شویتا کہتی ہیں کہ ’دفتر جا کر کام کرنے والوں کو تو ہفتے میں ایک دو دن چھٹی مل جاتی ہے لیکن ہمارا تو پیر سے اتوار تک کام ہی کام چلتا ہے۔‘

دلی کی ایک کثیرالملکی کمپنی میں کام کرنے والے ساگر تسلیم کرتے ہیں کہ کام کسی کے پاس بھی کم نہیں کیونکہ گھر کے کام کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں اور باہر کے اپنے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایسا کہنا غلط ہے کہ گھر پر رہنے والی عورتوں کے پاس کام نہیں ہوتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’دنیا کی سب سے زیادہ تنخواہ ماں کو ملنی چاہئیے‘

ساگر کہتے ہیں کہ ہاؤس وائف ہونا بہت مشکل ہے۔ ان پر گھر کے بزرگوں، بچوں، رشتے داروں اور پھر شوہر، سبھی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

دلی کے ہی چندن کا خیال ہے کہ ’گھر چلانا سب سے مشکل کام ہے کیونکہ اگر ہاؤس وائف نہ ہو تو آپ بھی کام پر نہیں جا سکتے۔ وقت پر صبح کے ناشتے سے لیکر کپڑے اور دیگر کاموں کے ساتھ رات کا کھانا سب کچھ ملتا ہے، اگر عورتیں نہ ہوں تو دنیا کے زیادہ تر مرد کام نہیں کر پائیں گے۔‘

کچھ عرصہ پہلے مِس ورلڈ کا مقابلہ جیتنے والی مانوشی چلر سے جب پوچھا گیا کہ دنیا کے کس پروفیشن کو سب سے زیادہ تنخواہ ملنی چاہیے تو ان کا جواب تھا کہ ’ایک ماں کو‘۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں