ملک کے مجموعی قرضے دگنے ہو گئے

ملک کے مجموعی قرضوں میں دگنا اضافہ ہوگیا۔ حجم اٹھائیس ہزار دو سو ستانوے ارب ہوگیا۔ ادھارکے بوجھ میں خطرناک اضافے سے ہرپاکستانی ایک لاکھ چھتیس ہزارکامقروض ہوگیا۔

قرض بڑھتا گیا جوں جوں دعوے کیے کے مصداق مسلم لیگ ن کے پانچ سالہ دورمیں ادھارکا ہندسہ ڈبل ہوتے ہوئے ملک کے مجموعی قرضے14 ہزار 318 ارب سے 28 ہزار 297 ارب تک جاپہنچے۔

اسٹیٹ بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں حکومتی قرضوں میں 3165 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔مارچ تک اندرونی قرضوں کا حجم 16074 ارب جبکہ بیرونی قرضے اکانوے ارب چھہتر کروڑ ڈالر ہو گئے۔ گزشتہ نوماہ میں 5.8 ارب ڈالر لیے گئے۔ یوں ہر پاکستانی ایک لاکھ چھتیس ہزارروپے کا مقروض ہوگیا۔

سرکاری اداروں کے ذمے قرضے اور واجبات کی مالیت 1196 ارب روپے ہے۔پی آئی اے 148 ارب روپے کے بوجھ تلے دبا ہے، واپڈا 124 ارب جبکہ کئی سال سے بند اسٹیل مل 43 ارب روپے کی مقروض ہے۔

اس کے علاوہ دیگرحکومتی اداروں کے ذمہ 677 ارب کے قرضے اور 200 ارب کے واجبات ہیں۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں