لشکرِ جھنگوی کے خلاف آپریشن، فوج کا کرنل ہلاک

کرنل سہیل عابدتصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption کرنل سہیل عابد کی ہلاکت پر پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے افسوس کا اظہار کیا ہے

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کے خلاف ایک کارروائی کے دوران صوبے میں تنظیم کا سربراہ مارا گیا ہے اور اس آپریشن کے دوران ملٹری انٹیلیجنس کا ایک افسر بھی ہلاک ہوا ہے۔

فوجی حکام کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواح میں کی جانے والی اس کارروائی میں لشکرِ جھنگوی بلوچستان کا سربراہ سلمان بادینی مارا گیا، جبکہ اس کے علاوہ مزید تین تین شدت پسند بھی ہلاک کر دیے گئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں ملٹری انٹیلیجنس کے کرنل سہیل عابد ہلاک اور چار اہلکار زخمی ہو گئے۔

سلمان بادینی کے سر پر 20 لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔ اس آپریشن میں مارے جانے والے دو خودکش بمباروں کا تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد پولیس اور ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔

پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کرنل عابد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں

ہزارہ قبیلے کی نسل کشی ہو رہی ہے: چیف جسٹس

بدھ کی رات آئی ایس پی آر کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ کارروائی آپریشن رد الفساد کے تحت کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے کلی الماس میں کی گئی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے گرفتار ہونے والے ایک شدت پسند نے تحقیقات کے دوران اس علاقے میں کالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے اہم شدت پسندوں کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔

اس انکشاف پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس کے دوران دو خود کش حملہ آوروں سمیت تین شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مارے جانے والا شدت پسند سو سے زائد پولیس اہلکاروں اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہلاکت میں ملوث تھا۔

زخمی ہونے والے اہلکاروں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پاکستان میں حالیہ کچھ عرصے میں ہزارہ برادری کو ہدف بنا کر ہلاک کیے جانے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ ان ہلاکتوں کے خلاف سیاسی اور انسانی حقوق کی خاتون کارکن جلیلہ حیدر نے بھوک ہڑتال بھی کی تھی جس کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ جا کر ہزارہ عمائدین سے ملاقات کی تھی اور انھیں اس معاملے میں کارروائی کی یقین دہانی کروائی تھی۔

گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران نے کہا تھا کہ عدالت یہ محسوس کرتی ہے کہ ہزارہ قبیلے کی نسل کشی ہو رہی ہے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں