میاں صاحب کی پرانی عادت

اگر ہم یہ دیکھنا چاہیں  کہ موجودہ پاکستانی سیاستدانوں میں خوش قسمت ترین سیاستدان کون ہے تو جواب ہوگا کہ میاں نواز شریف۔ کیونکہ وہ پاکستان کے واحد حکمران ہیں جو تین مرتبہ وزیر اعظم رہے ہیں ۔یہاں سے اگلا سوال بھی ہے کہ  کون سا سیاستدان ہے جو کہ بدقسمت ترین بھی ہے ۔ اسکا جواب بھی میاں نواز شریف ہی ہیں۔ میاں صاحب ایک بھی مرتبہ بطور وزیر اعظم اپنی ٹرم مکمل نہیں کر سکے۔ یعنی انہوں نے خود کو ٹھیک نہ کرنے کا عہد کیا ہوا ہے۔ وہ ایسا کیوں نہیں کر سکے، کیونکہ اُن کو بم کو زور سے لات مارنے کی عادت ہے ۔ انہوں نے حال ہی میں نا اہل ہو جانے کے بعد پھر سے بم کو گلے لگایا ، ہوا میں اُچھالا اور زوردار لات ماری ہے ۔ اب جب بم پھٹ گیا ہے  تو المروف ’’کیوں نکالا‘‘،’’ میں  نے کیا  کہا ہے ‘‘ کہتے پھر ر ہے ہیں۔ میاں صاحب، آپ اتنے بھولے نہیں ہیں جتنے بن رہے ہیں۔ چلیں، ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ آپ نے کیا کہا ہے۔

سرل المیڈا وہ صحافی ہے جو الفاظ کے گولے بنانا جانتا ہے۔ ڈان لیکس میں بھی اسی صحافی کی رپورٹ نے ادھم مچایا تھا اور اب بھی یہی وہ صحافی ہے جس نے میاں صاحب کا یہ انٹرویو چھاپا ہے۔ صحافت کی اخلاقیات کو سائڈ پر رکھ کر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو صحافی ڈان لیکس میں ملوث تھا ، آپ نے اُس کو انٹرویو دیا ہی کیوں؟ آپ نہیں جانتے کہ وہ الفاظ میں بارود چھپا کر چھاپتا ہےاور بعد ازاں یہ الفاظ کسی نہ کسی کی قربانی لیتے ہیں۔ آگے بڑھتے ہیں،آپ نے کہا کہ پاکستان تنہا ہے۔ تو یہ بتا دیں کہ چین اور ترکی پاکستان کے ساتھ ہیں یا نہیں؟ اگر پاکستان تنہا ہے تو جب آپ وزیر اعظم تھے اور سی پیک کا کریڈٹ لے رہے تھے تو کیا تب پاکستان تنہا نہیں تھا؟ آپ کے جانے کے بعد ہی تنہا ہوا ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے کام ٹھیک نہیں کیا۔ عرض کر دیں کہ پاکستان تنہا نہیں ہے۔ ہاں، بہت سی طاقتوں کی نظر میں چبھتا ضرور ہے ۔ اگر پاکستان تنہا ہوتا تو سعودیہ اور ایران اپنی مخالفت کے با وجود پاکستان کی نہ سنتے، چین سائڈ پر ہو چکا ہوتا، ترکی آپ کو سلام کر چکا ہوتا اور جس روس سے اندر خانہ جپھیاں ڈالی جا رہی ہیں ،وہ آپ کی طرف دیکھتا بھی نہیں۔ پاکستان تنہا ہوتاتو سی پیک میں جاپان اور یورپ سرمایہ کاری نہ کرتے۔ جہاں تک بات ہے موقف رد کرنے کی تو حضور والا، اس میں قصور آپ کا ہے۔ کیا آپ نے  یہ وزارت تو آپ نے اپنی گودی میں نہیں رکھی ہوئی تھی؟ اوباما کے سامنے بغیر پانی اور پرچی کے آپ سے بات تک نہیں ہو رہی تھی اور اتنی اہم وزارت اپنے پا س رکھ  کر آپ کو لگتا ہے کہ دنیا آپ کا موقف مانے گی؟ دنیا افغانستان کو موقف کیوں نہ مانے؟۔

سب سے اہم بات ’’ ملک میں عسکری تنظیمیں متحرک ہیں، آپ انہیں غیر ریاستی عناصر کہ لیں‘‘۔ جناب عالیٰ، دنیامانتی ہے کہ جو لڑائی اربوں ڈالر خرچ کر کے امریکہ اور نیٹو نہیں جیت سکا، وہ پاکستان نے جیت لی ہے ۔یہ کاروائی، یہ جنگ اور یہ شہادتیں ان ہی غیر ریاستی عناصر کی ساتھ تھیں ۔ آپ نے ایک ہی ہاتھ میں سب کچھ بھلا دیا۔ کرسی کا نشہ ہی شاید ایسا ہوتا ہے ۔ یہ بھی ٹھیک کر لیں کہ ہم نے اُن کو پڑوسی ملک میں ادھم مچانے اور خون ہی ہولی کھیلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ یہ غیر ریاستی عناصر کسی بھی ریاست کی اجازت سے کاروائیاں نہیں کرتے ہیں۔ آپ یہ بتائیں کہ جس ریاست کی ترجمانی آپ فرما رہے ہیں، اُس نے تو اجمل قصاب تک رسائی ہی نہیں دی۔ بلکہ، اُس کو عجلت میں پھانسی دے کر کیس ہی خراب کر دیا۔ یہ فیصلہ بھی ہونا باقی ہے کہ اجمل قصاب پاکستانی تھا بھی یا نہیں تھا؟ کیونکہ اُن کے بندوں کی کتابیں اور تحقیق تو یہ ثابت کر رہی ہیں کہ اجمل قصاب کو نیپال سے گرفتار کیا  اور اس حملے میں استعمال کیا۔ آپ نے اگلا سوال کیا کہ مجھے بتائیں کہ ہم اُن کا ٹرائل کیوں مکمل نہیں کرتے ہیں۔ صاحب، وزیر اعظم آپ رہے ہیں۔ خود سے پوچھیں کہ آ پ نے چار سالوں میں ٹرائل کیوں مکمل نہیں کیا؟ کم از کم بھار ت سے یہی پوچھ لیتے کہ جب آپ اجمل کو پھانسی دے رہے ہیں تو ہم کیس کیا خاک آگے لے کر چلیں گے؟ آپ کو غیر ریاستی عناصر یاد رہے لیکن اُن کو فنڈنگ کرنے والےیاد  نہیں، کیوں؟ کوئی دو لفظ کلبھوشن کے بارے میں بھی اُسی آرٹیکل کہ دیتے، ظاہر ہے وہ بلوچستان میں سجی کھانے تو نہیں آیا تھا۔ آخر میں بھار ت کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ جس بندے کے بیان پر وہ لڈیاں ڈال رہے ہیں اور اِس کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے صادق و امین نہ ہونے اور جھوٹا ہونے پر پانچ ‘صفر سے نا اہل کیا تھا۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں