نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نواز شریف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کے انٹرویو پر قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کے خلاف کے غداری کا مقدمہ درج کرنے اور ان کی تقاریر کو براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر یہ کہا تھا کہ ان کے پاس بہت سے قومی راز ہیں جن کو وہ افشا بھی کر سکتے ہیں۔ ان کے اس اقدام سے پاکستان کے اہم قیمتی رازوں سے دنیا آشنا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

’نہ معافی مانگوں گا نہ رحم کی اپیل کروں گا‘

نواز شریف آخر چاہتے کیا ہیں؟

’اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا‘

‘لگتا ہے منصوبہ ساز بہت بے تاب ہیں‘

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کا یہ اقدام ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے لہذا ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کیا جائے۔

اس درخواست میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور پیمرا کے چیئرمین کو فریق بنایا گیا ہے۔

عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔

اس سے قبل منگل کو احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘ملک کےاندر اب یہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک کو اس نہج پر کس نے پہنچایا اور پتہ لگنا چاہیے کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی تھی۔’

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیر کو فوج کی درخواست پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا

احتساب عدالت میں بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوچکا ہے۔ انھوں نے سوال کیا ‘آپ بتائیں کہ دنیا میں کون سا ملک دہشت گرد ہے؟’

انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ان کے انٹرویو پر قومی کمیشن بننا چاہیے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے۔

خیال رہے کہ پیر کو فوج کی درخواست پر بلائے گئے قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والا بیان غلط اور گمراہ کن ہے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں