ٹیپو سلطان: کرناٹک کا ہیرو ہے یا ہندو دشمن ظالم حکمران

ٹیپو سلطان
Image caption کانگریس حکومت نے چند برس قبل ریاست کے کئی دیگر ہیروز کی طرح ٹیپو کو کرناٹک کا ہیرو قرار دیا تھا

انڈیا میں میسور کے سابق حکمراں ٹیپو سلطان کو ایک بہادر اور محب وطن حکمراں کے طور پرہی نہیں مذہبی رواداری کے علمبردار کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن کچھ عرصے سے بی جے پی کے رہنما اور دائیں بازو کے نظریات کے مورخ ٹیپو کو ظالم اور ہندو دشمن مسلم سلطان کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹیپو کو ہندوؤں کا قتل عام کرنے والا حکمراں بتایا جا رہا ہے۔

کرناٹک کے انتخابی مہم کے دوران بھی کئی بار یہ سوال اٹھایا گیا کہ ٹیپو ریاست کا ہیرو ہے یا ہندو دشمن ظالم حکمران؟

ٹیپو سلطان میسور سے تقریـباً 15 کلومیٹر دور سری رنگا پٹنم میں ایک خوبصورت مقبرے میں اپنے والد حیدر علی اور والدہ فاطمہ فخرالنسا کے پہلو میں دفن ہیں۔ سری رنگا پٹنم ٹیپو کا دارالسلطنت تھا اور یہاں جگہ جگہ ٹیپو کے دورکے محلات، عمارتیں اور کھنڈرات ہیں۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

ہندو دشمن یا آزادی کا ہیرو؟

ٹیپو سلطان ’رام‘ کے نام کی انگوٹھی پہنتے تھے

’وحشی قاتل ٹیپو کے پروگرام میں مجھے نہ بلائیں‘

ٹیپو پر اس تنازعے کے باوجود ہزاروں لوگ اب بھی ٹیپو کے مقبرے اور ان کے محلات دیکھنے کے لیے سری رنگا پٹنم آتے ہیں۔ لوگوں کے ذہن میں میسور کا ٹیپو اب بھی ایک محب وطن انگریزوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان دینے والا ہیرو اور سیکیولرحکمراں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tapas Mallick/BBC
Image caption سری رنگا پٹنم میں ٹیپو سلطان کا مزار دیکھنے کے بہت سے لوگ آتے ہیں

میسور کے 18ویں صدی کےحکمراں ٹیپو سلطان انگزیزوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ کرناٹک کی سابقہ کانگریس حکومت نے چند برس قبل ریاست کے کئی دیگر ہیروز کی طرح ٹیپو کو افتخارِ کرناٹک قرار دیا اور ان کے یوم پیدائش پر سرکاری طور پر جشن منانا شروع کیا۔

بی جے پی اور آر ایس ایس اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کے خیال میں ریاستی حکومت صرف مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے ٹیپو کی پیدائش کا جشن مناتی ہے۔ ریاستی بی جے پی کے رہنما اننت کمار ہیگڑے کا کہنا ہے کہ ٹیپو متعصب حکمران تھا اور اس نے ساحلی علاقوں میں ہزاروں ہندوؤں کا قتل عام کیا اور مندر ڈھائے تھے۔

ان کا کہنا ہے: ‘ٹیپو ہیرو نہیں بلکہ ہزاروں ہندوؤں کا قاتل تھا۔‘

ٹیپو کی سلطنت میں غالب اکثریت ہندوؤوں کی تھی۔ ٹیپو سلطان مذہبی رواداری اور روشن خیالی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے سری رنگا پٹنم، میسور اور اپنی سلطنت کے کئی دیگر مقامات پر متعدد مندر تعمیر کرائے اور مندروں کے لیے زمینیں دیں۔ خود ان کے اپنے محل کے داخلی دروازے سے محض چند سو میٹر کی دوری پر ایک بہت بڑا مندر واقع ہے۔

لیکن ہندوتوا سے متاثر بہت سے دانشور اور مورخین ٹیپو کو ظالم اور ہندو مخالف حکمران قرار دیتے ہیں۔ کرناٹک کے ڈاکٹر چدانند مورتی نے کنڑ زبان میں ٹیپو پر لکھے جانے والی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ ‘بہت چالاک حکمراں تھا۔ اس نے میسور سلطنت کے اندر اپنی ہندو رعایا پر ظلم نہیں ڈھایا اور نہ ہی ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا۔ لیکن ریاست سے باہر ساحلی کورگ علاقوں اور کیرالہ کے مالابار علاقے پر حملے میں اس نے ہندوؤں پر بہت ظلم ڈھائے۔ وہ ظالم، بے رحم اور متعصب حکمراں تھا۔ وہ جہادی تھا۔ اس نے ہزاروں ہندوؤں کو جبراً مسلمان بنایا وہ اپنی مذہبی کتاب پر عمل کرتا تھا جس میں لکھا ہے کہ بت پرستوں کو قتل کرو۔’

تصویر کے کاپی رائٹ Tapas Mallick/BBC
Image caption ٹیپو سلطان میسور سے تقریـباً 15 کلومیٹر دور سری رنگا پٹنم میں ایک خوبصورت مقبرے میں اپنے والد حیدر علی اور والدہ فاطمہ فخرالنسا کے پہلو میں دفن ہیں

مورخ روی ورما نے ٹیپو سلطان کے بارے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے: ’کیرالہ میں ٹیپو کی فوجی مہمات کے بارے میں متعدد مسنتد دستاویزات سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ میسور کا ٹیپو سلطان ایک متعصب مسلم جابر حکمران تھا جو کیرالہ میں سینکڑوں ہندو مندروں کو تباہ کرنے، بڑی تعداد میں ہندوؤں کو جبراً مسلمان بنانے اور ہندوؤں پر بے پناہ مظالم ڈھانے کا ذمےدار تھا۔’

روی ورما نے متعدد مندروں کی فہرست بھی پیش کی ہے جو بقول ان کے ٹیپو نے تباہ کیے۔

لیکن ٹیپو کا گہرا مطالعہ کرنے والے مورخ پروفیسر بی شیخ علی کہتے ہیں کہ ان دعوؤں کا کوئی تاريخی ثبوت نہیں ہے۔ ان کے خیال میں ٹیپو کی ظالم حکمراں کی نئی شبیہ تاریخ سے زیادہ موجودہ سیاسی ماحول سے متاثر ہے۔

وہ کہتے ہیں: ‘جب مسلمان آئے تو انھوں نے اپنے حساب سے تاریخ لکھی، جب انگریز آئے تو انھوں نےاپنے حساب سے لکھی۔ اب پارٹی بدل گئی ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ اسے اپنی طرح سے بدلا جائے۔ وہ تاریخ کو مسخ کرنا چاہتے ہیں۔’

تصویر کے کاپی رائٹ Tapas Mallick/BBC
Image caption انڈیا کی بدلتی ہوئی سیاست میں تاریخ کی نئی تشریح کی جا رہی ہے

پروفیسر علی کہتے ہیں کہ تاریخ کو اس کے عصری سیاسی اور سماجی پس منظر میں معروضیت کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ملک کی بدلتی ہوئی سیاست میں تاریخ کی نئی تشریح کی جا رہی ہے۔ اس بدلتے ہوئے پس منظر میں کوشش یہی ہے کہ مستقبل کی تاریخ میں ٹیپو سلطان جیسے ماضی کے حکمرانوں کو شاید فراموش کر دیا جائے یا پھر انھیں ہندو دشمن، ظالم حکمراں کے طور پر پیش کیا جائے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں