’مجھے افسوس ہے کہ میں نے 37 سال کی عمر تک سیکس نہیں کیا‘

مرد

اگرچہ اوسطاً ایک شخص اپنے لڑکپن میں سیکس کرتا ہے لیکن یہ سب کے ساتھ نہیں ہوتا۔

جوزف‘ 60 سال کے ہیں اور رنڈوے ہیں۔ ان کے لیے یہ بات بہت شرمناک ہے۔ انھوں نے اپنی کہانی بی بی سی ریڈیو 5 سے شیئر کی۔

میں 30 کے پیٹھے تک کنوارہ تھا۔ مجھے نہیں معلوم یہ کتنا غیر معمولی ہے لیکن میرے لیے باعث شرم اور بدنامی تھی۔

میں حد سے زیادہ شرمیلا اور بے چین شخص ہوتا تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں الگ تھلگ رہتا تھا۔ میرے ہمیشہ سے دوست رہے ہیں لیکن میں ان دوستیوں کو رشتے میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا۔

سکول میں لڑکیوں اور خواتین سے گھرا رہتا تھا لیکن میں نے کبھی کوشش نہیں کی۔

’دن میں پانچ مرتبہ سیکس بھی ناکافی تھا‘

برہنہ احتجاج کرنے والی اداکارہ گرفتار

‘سیکس سے بچنے کے لیے مجھے بہانے بنانے پڑتے’

جب میں یونیورسٹی میں پہنچا تو میرے لیے خاص رشتہ نہ رکھنا عام بات ہو چکی تھی۔ اس کی بڑی وجہ خود اعتمادی کا فقدان اور یہ خیال کہ لوگ مجھے پرکشش نہیں سمجھیں گے۔

اگر آپ اپنا لڑکپن اور 20 کے پیٹے کے اوائل لوگوں کے ساتھ باہر نہ جائیں تو آپ اپنے آپ کو یہ کہہ کر خود اعتمادی نہیں دلا سکتے کہ ’ہاں لوگ مجھے پسند کریں گے کیونکہ میری وہ گرل فرینڈ ہوا کرتی اور وہ گرل فرینڈ ہوا کرتی تھی۔‘

میں نے اس بارے میں اپنے دوستوں سے کبھی بات نہیں کی اور نہ ہی انھوں نے مجھ سے پوچھا۔ اگر وہ پوچھتے بھی تو میں اس بارے میں نہ کھلتا کیونکہ سچ یہ ہے کہ مجھے اس بارے میں شرم آتی تھی۔

ہو سکتا ہے کہ یہ سوچ درست نہ ہو کہ اگر آپ نے سیکس نہ کیا ہو تو معاشرہ آپ کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں جب بھی کوئی چیز غیر معمولی ہو تو اس بارے میں رائے ضرور قائم کی جاتی ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ کامیابی بہت اہم ہے۔ اگر آپ مشہور گانے اور فلمیں دیکھیں جو نوجوانی کے بارے میں ہوتے ہیں اس میں اکثر لڑکیوں کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دی جاتی ہے۔

اور اسی وجہ سے میرے لیے احساسِ شرم بڑھتا گیا۔

میرے زیادہ تر دوستوں کی گرل فرینڈز تھیں۔ میں نے ان کو رشتے کی ابتدا کرتے دیکھا اور بعد میں شادی کرتے۔ اس نے میری خود اعتمادی کو آہستہ آہستہ نقصان پہنچایا۔

ویاگرا اب ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دستیاب

پیرس میں سیکس ڈولز کا مرکز ’قحبہ خانہ نہیں‘

فرانس میں سیکس کے لیے رضامندی کی عمر 15 سال

اگرچہ میں تشخیص نہیں کر سکا لیکن میں تنہا تھا اور بہت افسردہ۔ ہو سکتا ہے یہ کسی کے ساتھ جنسی روابط نہ رکھنے کے باعث ہو لیکن یہ کسی کے قریب نہ ہونے کے باعث بھی تھا۔

میں اب پچھلے 15 یا 20 سال ماضی میں دیکھتا ہوں تو مجھے میرے قریبی خاندان والوں کے علاوہ کسی نے چھوا نہیں۔ تو یہ صرف سیکس کے بارے میں نہیں ہے۔

اگر میں کسی کو دیکھتا جس کو میں پسند کرتا تھا تو مجھے خوشی یا جوش و خروش کا احساس نہیں ہوتا تھا بلکہ میں اداس ہو جاتا تھا۔ مجھے ناامیدی کا احساس ہوتا تھا۔

مجھے ٹھکرائے جانے کا خوف نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے یقین تھا کہ کوئی بھی مجھے اس طرح پرکشش نہیں سمجھے گا جس طرح میں ان کو پرکشش پاتا ہوں۔

میں نے اس احساس کو پال لیا کہ کسی عورت کو رشتہ قائم کرنے کے لیے رابطہ کرنا غلط ہے۔ میں ان مردوں میں سے نہیں ہوتا چاہتا تھا جو خواتین کو استعمال کرتے ہیں۔

مجھے لگتا تھا کہ عورتوں کو پورا حق ہے کہ اپنی روزمرہ کی زندگی اور رات کو لطف اندوز ہو سکیں۔

معمر افراد میں سیکس کی چاہ پہلے سے زیادہ

جعلی پورن ویڈیوز کے سنگین نتائج

جس خاتون کو میں پرکشش سمجھتا تھا میں ان سے دوستی کرتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ بہت سی ان خواتین کو میرے رومانوی احساسات کے بارے میں معلوم بھی نہیں تھا۔

اس وقت مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ مجھ میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ اور آج جب میں اس بارے میں سوچتا ہوں تو میں اب بھی کچھ کہہ نہیں سکتا۔ میرے خیال میں مجھ میں پراعتمادی کی کمی تھی۔

کسی بھی عورت نے مجھے ڈیٹ کے لیے نہیں کہا۔ شاید اس وقت عورت کے لیے کسی مرد کو ڈیٹ پر جانے کا کہنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا۔

میں 30 کے پیٹے کے وسط اور آخر میں نہایت افسردہ ہو گیا۔ اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر نے مجھے ادویات دیں اور ماہر نفسیات کے پاس بھیجا۔

مجھ میں تبدیلی آنی شروع ہو گئی۔

ماہر نفسیات کے ساتھ سیشن کرنے سے مجھ میں تھوڑی خوداعتمادی آئی اور کچھ ادویات نے بھی اثر دکھایا۔ میرے خیال میں ادویات انسداد شرمیلا پن کے لیے تھیں۔

اس کے علاوہ میں تھوڑا بڑا بھی ہو گیا تھا۔

میں نے ایک عورت کو ڈیٹ کی دعوت دی اور بعد میں ہم دونوں کا تھوڑے عرصے تک قریبی رشتہ بھی چلا۔

مجھے یاد ہے کہ میں اپنی پہلی ڈیٹ پر بہت نروس تھا۔ مجھے بڑا اچھا لگا۔ میں نے اس خاتون کو دوبارہ ڈیٹ پر مدعو کیا اور اس نے ہاں کی اور اس طرح ہمارے قریبی رشتے کا آعاز ہوا۔

پہلی ڈیٹ کے چند ہفتوں بعد ہی ہم جسمانی طور پر قریب آئے۔ آپ نے سنا ہو گا کہ پہلی بار سیکس کرتے وقت لڑکے کس طرح غلطیاں کرتے ہیں لیکن اس رات میں اس لڑکے کی طرح تو نہیں تھا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ کیسے کیا جاتا ہے۔

مجھے سیکس کرنے میں بڑا لطف آیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلی بار سیکس کا مزہ نہیں آتا لیکن مجھے آیا۔

میں نے اس کو نہیں بتایا تھا کہ میں ایک ورجن ہوں۔ لیکن اگر وہ پوچھتی تو میں اس کو سب کچھ صاف صاف بتا دیتا۔

’مردوں کو خواتین کو لبھانے کی آزادی ہونی چاہیے‘

لڑکیاں نہیں روبوٹس ہیں

میری ملاقات اپنی اہلیہ کے ساتھ اس سیکس کے 18 ماہ بعد آفس میں ہوئی۔ وہ بڑی بڑی دلکش آنکھوں والی بہت خوبصورت خاتون تھی۔

میں نے اس کو فوری طور پر ڈیٹ کے لیے نہیں کہا لیکن میں نے اپنی مشترکہ دوست سے کہا کہ وہ اس سے میرے حوالے سے بات کرے اور اسی مشترکہ دوست ہی نے ہماری شادی میں مدد کی۔

ہم دونوں کی پہلی ڈیٹ میری 40 ویں سالگرہ پر تھی اور اس کے 18 ماہ بعد ہماری شادی ہو گئی۔

میری بیوی نے مجھے غیر مشروط پیار دیا جو بہت کم ہوتا ہے۔ میں نے جب بیوی کو اپنی جنسی تاریخ کے بارے میں بتایا تو وہ حیران نہیں ہوئی اور اس نے مجھے قبول کیا۔ ہم دونوں کی شادی 17 سال چلی اور تین سال قبل اس کا انتقال ہو گیا۔

مجھے لگتا ہے کہ میں اس سے بہت دیر میں ملا اور بہت جلد جدا ہو گیا۔ لیکن بات وہیں آ جاتی ہے کہ اگر میں اس سے جوانی میں ملتا تو کیا وہ مجھے پرکشش پاتی۔

مجھے نہیں معلوم کہ جوانی میں محبت میں گرفتار ہونے کا احساس کیا ہوتا ہے، کیسے آپ لڑکیوں کے ساتھ قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلیں۔

اگر کوئی اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں تو میں کہوں گا ’اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔‘

اگر آپ کسی شخص کو اس صورتحال میں دیکھتے ہیں تو ضرور مدد کریں۔ ہم کیسے مدد کر سکتے ہیں میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ اگر کوئی میری مدد کی پیشکش کرتا تو میں انکار کر دیتا کہ مجھے کوئی مسئلہ ہے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں