’اس ترقی سے گوادر کے لوگوں کو کیا ملے گا‘

کوئٹہ

بلوچستان کے بڑے تعلیمی اداروں میں گذشتہ سات آٹھ سال کے دوران زیادہ تر تقاریب میں سرکاری باالخصوص سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کو پیش کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز کوئٹہ میں منعقد ہونے والا ادبی میلہ ذرا ہٹ کے تھا۔

ایک تاثر عام ہے کہ سات آٹھ سال میں انتظامی مشینری کی جانب سے بلوچستان کے بڑے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو سیاسی سرگرمیوں باالخصوص قوم پرستی کی سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس ادبی میلے میں یہ بات بھی سننے کو ملی کہ سیاست تو آگے بڑھنے کا نام ہے اور جب سے انسانی سماج ہے تو سیاست بھی ہے۔

ایرانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے دو پاکستانی ہلاک

کوئٹہ: دولت اسلامیہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

بلوچستان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک یا دیگر میگا پراجیکٹس کے حوالے سے سرکاری بیانیے کے برعکس رائے رکھنے والوں کو ترقی مخالف سمیت ریاست مخالف القابات سے بھی نوازا جاتا ہے۔

Image caption یہ بھی کیوں نہیں پوچھوں اس ترقی سے گوادر کے لوگوں کو کیا ملے گا: عاصم سجاد

لیکن اس میلے کے دوران بعض نشستوں کے دوران سرکاری بیانیے کے برعکس اس رائے کا اظہار بھی کیا گیا کہ جس کو حکمران ترقی قرار دیتے ہیں اس کے پیچھے چھپے اور تلخ حقائق بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں سوال ہونا چاہیے۔

ایک نشست کے دوران ایک سپیکر عاصم سجاد کا یہ کہنا تھا کہ اگر ترقی عوام کے لیے ہے تو اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔

’دہشتگردی کے اس دور اور اس ملک کے خاص تناظر میں اس بات پر زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کیا چکر ہے کہ ترقی ہماری اور اس ترقی کو ممکن بنانے کے لیے یہ کہا جا رہا ہے اپنے حقوق کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ اپنی رائے کو بھی چھوڑ دیں۔‘

Image caption لوگوں کی رائے سے حوصلہ ملا کہ cave آرٹ کو آگے بڑھائیں

ان کا کہنا تھا اب بات ہورہی ہے کہ گوادر بن گیا لیکن بلوچستان کو نو فیصد ریونیو ملے گا ۔ ’اگر نو فیصد ملے گا تو میں یہ کیوں نہیں پوچھوں کہ نو فیصد کیوں دیا جارہا ہے۔ یہ بھی کیوں نہیں پوچھوں اس ترقی سے گوادر کے لوگوں کو کیا ملے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ آج ترقی کے چمکتے پہلو پر زور دیا جاتا ہے لیکن اس کے نقصانات کے بارے میں بتایا نہیں جاتا۔

چین پاکستان راہداری منصوبہ، نو صنعتی پارکس بنائے جائیں گے

چین سے مذاکرات نہ ہوئے ہیں نہ ہوں گے: اللہ نذر بلوچ

اقتصادی راہداری کو افغانستان تک لے جانے کی خواہش

جہاں اس میلے میں بعض نشستوں میں سرکاری بیانیے کے برعکس آوازیں سننے کو ملیں وہاں اس ادبی میلے کا ایک نمایاں پہلو فن پاروں کی نمائش تھا۔

یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر نائمہ بلال منہاس نے کہا کہ یہ فن پارے دراصل Takatu Nights and other stories نامی کتاب میں شامل مضامین اور نظموں پر مشتمل ہیں۔

اس میلے میں اس کتاب کی تقریب رونمائی بھی ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ رونمائی سے قبل اس کتاب کے موضوعات کو ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹوں کو بھیجا گیا تاکہ وہ ان کو اپنے مطابق آرٹ کو شکل دیں۔

’پاکستان میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لٹریچر کی سرحد سے نکل کر اسے پینٹنگز کی شکل میں پیش کیا گیا۔‘

اس نمائش کی ایک اور خاص بات پتھروں پر بنے cave آرٹ کی نمائش بھی تھی۔

یونیورسٹی کے فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ کی اسسٹننٹ پروفیسر عائشہ ساجدہ نے کہا کہ لٹریچر کے بغیر زندگی کھوکھلی ہے۔

ہم نے کام کو ادب سے جوڑا ہے۔ بہت ساری باتیں ایسی ہیں جن کو لوگ بھول گئے ہیں اور اس فن کے ذریعے باتوں کو چھیڑا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ اس دور کا فن ہے جب انسان غاروں میں رہتا تھا اور انھوں نے پتھر کے زمانے کو پتھر پر ہی دریافت کیا۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کی رائے سے ان کو یہ حوصلہ ملا کہ وہ اس آرٹ کو آگے بڑھائیں۔

اس ادبی میلے کا ایک اور نمایاں پہلو کتابوں کے سٹالوں کا تھا۔

یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات نے پہلی مرتبہ مختلف موضوعات پر کتابوں کی بڑی تعداد میں لگے سٹالوں سے استفادہ کیا۔

یونیورسٹی کی فائن آرٹس کی طالبہ گل مکئی ترین نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں عام طور پر نہیں ہوتیں جبکہ ایسی سرگرمیوں کو ہونا چاہیے۔

اگرچہ عام تاثر یہ ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل فونز نے لوگوں کو کتب بینی سے دور کیا ہے لیکن گل مکئی ترین اس سے اتفاق نہیں کرتیں اور ان کا یہ کہنا تھا کہ جدید دور نے واپس ہمیں لٹریچر سے مزید قریب کردیا ہے۔

Image caption بلوچستان کو ایک پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس کے برعکس یہاں ٹیلینٹ بہت زیادہ ہے: روبینہ ہزارہ

پروفیسر سلمیٰ جعفر بھی اس میلے میں مہمان سپیکر کے طور پر شامل تھیں۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے کافی مسائل ہیں جس میں ایک یہ ہے کہ نوجوانوں کے لیے مواقع کم ہیں۔ ’ایسے میں یہ ادبی میلہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس کا اہتمام یونیورسٹی کے نوجوانوں نے خود کیا۔‘

آرمی چیف کی ’یقین دہانی‘ پر جلیلہ کی بھوک ہڑتال ختم

’میں ہزارہ ہوں تو کیا پاکستانی نہیں؟’

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے نوجوانوں کی شارٹ اور دستاویزی فلموں کو دیکھا جو کہ ایک امید اور مضبوط امن کا پیغام دے رہے ہیں۔

یونیورسٹی کی ایک اور طالبہ روبینہ ہزارہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو ایک پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس کے برعکس یہاں ٹیلینٹ بہت زیادہ ہے۔

’یہاں کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سامنے لانے کے لیے ایسے میلوں کا انعقاد ضروری ہے۔‘

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں