حکومت کو تاج محل کا رنگ بدلنے کی کوئی پروا نہیں ہے: انڈین سپریم کورٹ

تاج محلتصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طلبہ تاج کے قریب بہنے والے دریائے جمنا کی صفائی کر رہے ہیں

انڈیا کی عدالتِ عظمیٰ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ تاج محل کے رنگ بدلنے کے مسئلے کے حل کے لیے بیرونی ماہرین کی مدد حاصل کرے۔

عدالت نے حکومت سے کہا: ‘اگر آپ کے پاس مہارت ہے بھی تو آپ اسے استعمال نہیں کر رہے۔ یا شاید آپ کو پروا ہی نہیں ہے۔’

عدالت نے کہا کہ اس یادگار کا رنگ پیلا پڑ گیا ہے اور بعض حصوں کا رنگ بھورا اور سبز ہوتا جا رہا ہے۔

اس کی وجہ آلودگی اور کیڑے مکوڑوں کا فضلہ بتایا جاتا ہے۔

تاج کے بارے میں یہ بھی پڑھیے

تاج محل کے دو مینار منہدم ہو گئے

‘تاج محل اللہ کی ملکیت ہے’

تصویر کے کاپی رائٹ Archaeological Survey of India
Image caption کیڑوں کے فضلے کی وجہ سے تاج محل کے بعض حصے سبز پڑ گئے ہیں

جسٹس مدن لوکر اور دیپک گپتا نے ماحولیات کے کارکنوں کی جانب سے پیش کردہ تاج محل کی تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کو حکم دیا کہ وہ انڈیا کے اندر یا باہر سے ماہرین کی خدمات حاصل کر کے اس مسئلے کو حل کرے۔

اس سے قبل حکومت نے تاج محل کے قریب ہزاروں کارخانے بند کروا دیے تھے، لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کافی نہیں ہے اور تاج کی چمک ماند پڑتی جا رہی ہے۔

تاج محل کے قریب واقع دریائے جمنا میں بہہ کر آنے والی گندگی کے باعث وہاں کیڑے مکوڑے پھل پھول رہے ہیں جو تاج کی دیواروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

روزانہ 70 ہزار کے قریب لوگ تاج محل کی سیر دیکھنے آتے ہیں۔

اس سے قبل تاج پر گارے کا لیپ دیا جاتا رہا ہے، جس کے بعد اس امید میں مٹی دھو دی جاتی ہے کہ اس سے میل بھی دھل کر صاف ہو جائے گا، لیکن اس کے باوجود سنگِ مرمر کے رنگ بدلنے کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔

عدالت نو مئی کو دوبارہ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Daniel Berehulak/Getty Images
Image caption تاج محل مغل شہنشاہ شاہجہان نے اپنی ملکہ ممتاز محل کی یادگار کے طور پر 1643 میں تعمیر کروایا تھا

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں