نئے یومِ مزدور کی ضرورت

تحریر: خرم علی

لو بھائیوں یومِ مزدور آ گیا! صبح آرام سے سو کر اٹھیے گا یا اوورٹائم لگائیے گا اور اس دن کی ہمارے لئے وقعت ہی کیا رہ گئی ہے۔ دنیا کی 98 فیصد آبادی نوکری پیشہ افراد پر مشتمل ہے لیکن عجیب بات ہے کہ اس آبادی کی اکثریت کو ہزاروں نہیں تو سینکڑوں برینڈز کے نام تو پتہ ہوں گے لیکن شکاگو یا برطانیہ کی چارٹسٹ پارٹی کے ان عظیم انسانوں کے نام سے واقفیت نہیں ہو گی کہ جن کی قربانیوں کی بدولت ہم سب آج قانونی طور پر 16 گھنٹوں کی جگہ 8 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔

میں اس تحریر میں مزید شکاگو کی مزدور تحریک کا ذکر کرنے سے قاصر ہوں کیونکہ میرے ذہن میں ایک اور سوال گونج رہا ہے اور وہ یہ کہ کیا آج ہمیں ایک نئے یومِ مئی کی ضرورت ہے؟

اس سے قبل کہ ہم نئے یومِ مئی کا تذکرہ کریں کچھ اہم تاریخی حقائق آپ تک پہنچانا ضروری ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ کے علم میں ہو گا کہ پہلے کام کے اوقاتِ کار کی کوئی حد مقرر نہ تھی اور 16 سے 18 گھنٹے کام کرنا عام تھا اور اکثر اس سے زیادہ تجاوز کیا جاتا تھا۔ سرمایہ داری کے ابتدائی ادوار میں 7 سال تک کے بچوں سے 12 سے 16 گھنٹے کام کروانا روایتی تھا۔  جوں جوں صنعتی انقلاب بڑھتا گیا محنت کی افادیت میں اضافہ ہوتا گیا۔ جس پروڈکٹ کو تیار کرنے میں 16 گھنٹے لگا کرتے تھے وہ 12 پھر 10 پھر 8 اور 4 گھنٹے میں تیار ہونا شروع ہو گئی۔

یوں آہستہ آہستہ مشینوں میں اضافہ جبکہ ملازمتوں میں کمی واقع ہوتی گئی مگر ساتھ ہی ساتھ پہلے 12 سال سے کم عمر اور پھر 18 سال سے کم عمر افراد سے محنت نہ کروانے کی تحریکوں نے جنم لیا اور اس کے بعد کام کے اوقاتِ کار کم کرنے کی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ طویل جدوجہد کے نتیجہ میں 1833 میں 12 گھنٹے کام کا بل منظور ہوا اور 1847 میں چارٹسٹ موومنٹ کی طویل اور جرات مندانہ جدوجہد کے نتیجہ میں یہ طے ہوا کہ 1848 میں کام کو 10 گھنٹوں تک محدود کیا جائے گا۔

اس کے بعد 8 گھنٹے کی تحریک نے جنم لیا جس کی پاداش میں 1866 کو شکاگو کے مزدوروں نے اپنے خون سے کبھی نہ مٹنے والی اس تاریخ کو رقم کیا جسے آج یومِ مزدور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے مگر 1915 تک یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو پایا جب سب سے پہلے یوراگائے میں 8 گھنٹے اوقاتِ کار کا نفاذ ہوا اور آہستہ آہستہ تمام ممالک ایسے ہی قوانین نافذ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یوں تو 8 گھنٹے کی توجیح رابرٹ اوون کے اس نعرے کے ذریعہ پیش کی جاتی ہے کہ “8 گھنٹے کام، 8 گھنٹے تفریح اور ۸ گھنٹے آرام” مگر اس کے پیچھے ٹھوس معاشی پہلو کارفرما ہیں۔

سال 1833 سے 1915 کے درمیان صنعتی انقلاب کی دو پیڑھیاں گزری ہیں۔ پہلی مکنیکی جسے اسٹیم انجن کی ایجاد نے جنم دیا اور دوسری صنعت میں بجلی کے کردار سے وجود میں آئی۔ ہر مشینی جدت  پیداواری وقت کو کم کرتی ہے اور نتیجتاً پرانے اوقاتِ کار کے حساب سے محنت کشوں کی تعداد میں کمی واقع کرتی ہے جبکہ دوسری جانب یہ پیداوار کو بڑھاتی ہے۔

یعنی ہر مشینی جدت کے نتیجہ میں بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور بے روزگار محنت کشوں کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے دیگر مزدور کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس دوہرے استحصال کا جواب صرف ایک ہی نعرے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے اور وہ ہے کام کے اوقاتِ کار میں کمی۔

صنعتی انقلاب کے دونوں ادوار کے ساتھ کام کے اوقاتِ کار میں کمی کی بدولت محنت کش اپنی بارگینگ پاوور محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے۔ مگر 1970 سے 1980 کے درمیان رونما ہونے والے ڈیجیٹل ریویلیوشن کے مقابلہ میں ایسی کسی تحریک نے جنم نہ لیا اور مزدور بتدریج اپنی بارگینگ پاوور کھوتے چلے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ 1980 سے نیولبرلزم باآسانی پھلتا پھولتا چلا گیا جبکہ دوسری جانب مزدور تحریکیں کمزور اور مزدوروں کی یونین اور تنظیمیں بے بسی کی تصویر بنتی چلی گئیں۔

اب جب کہ صنعتی انقلاب اپنے چوتھے دور میں داخل ہو رہا ہے حالات مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ آٹومیشن اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس تیزی سے صنعت میں داخل ہو رہی ہیں اور انسانوں کی جگہ روبوٹس لیتے جا رہے ہیں جو اب سوشل میڈیا پر پروپیگینڈا کرنے تک کا کام سرانجام دینے کے قابل ہیں۔ صرف تیل اور گیس کی صنعت میں پچھلے دس سالوں میں منافع دس گنا بڑھ چکا ہے جبکہ اس ہی رفتار سے لوگ بھی نکالے گئے ہیں۔

ایک اور تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ مشینیں جہاں پرانی صنعتوں میں بے روزگاری کا باعث بن رہی ہیں وہاں نئی صنعتوں کو جنم دے رہی ہیں۔ لیکن ایک طرف تو وہ نئی صنعتیں خود جدید مشینوں ہی کے نتیجہ میں وجود میں آنے کی وجہ سے کم سے کم لوگوں کو روزگار دینے کے قابل ہیں مزید ان صنعتوں میں بھی مزید آٹومیشن ہو رہی ہے اور جو لوگ بر سرِ روزگار تھے وہ بھی نوکریاں کھو رہے ہیں۔ بینگلور جسے سیلی کون سٹی بھی کہا جاتا ہے اس کی آئی ٹی انڈسٹری پچھلے 5 سالوں میں قریب ڈیڑھ لاکھ افراد کو نوکری سے فارغ کر چکی ہے۔

اعداد و شمار سے رغبت رکھنے والے لوگ یقیناً میری توجہ ریاستوں میں جاری کردہ سروے رپورٹس کی طرف مبذول کرانا چاہیں گے جن میں عارضی یا مستقل ملازمین اور پارٹ ٹائم ورکرز کو بھی روزگار کے خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ایک اور وبا خاص کر ترقی یافتہ ممالک میں یہ چلی ہے کہ بے روزگار نوجوانوں کو انٹرپرینورشپ کی دو یا تین ماہ کی ٹریننگ دے کر ایسے چھوٹے موٹے کاروباروں کی طرف راغب کر دیا جاتا ہے جہاں وہ ساری زندگی  ہی بیٹھے رہ جاتے ہیں مگر کاغذات کے مطابق وہ سیلف ایمپلائڈ ہوتے ہیں۔ ان بہروپی کاغذات کا آخری شکار وہ لوگ ہیں جو دفتروں کے جوتے گھسٹتے گھسٹتے نوکری حاصل کرنے کی امید ہی کھو چکے ہوتے ہیں جنہیں ملازمت کا خانہ میسر آتا ہے۔

شعبدہ بازی کی دنیا یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ تعلیمی اداروں فلموں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ذہنوں میں انفرادیت انٹرپرینورشپ اور کام کرنےکی سہولت جیسے خیالات کو ڈالا جاتا ہے جس سے خاص کر وہ نوجوان جو ڈگریاں لے کر یا کوئی کورس کر کے اپنی قسمت آزمانے اترتے ہیں سمجھتے ہیں کہ وہ زیادہ قابل ہیں لہٰذا پانوں سے کام کرنے والے ٹیکنیشنز کے مقابلے میں لیپ ٹاپس سے کام کرنے والے یہ محنت کش سرمایہ دارانہ نظام میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر جلد ہی ان کو پتہ چل جاتا ہے کہ ان کا مزدور یا کلرک باپ تو پھر بھی کونے کھدرے میں ایک کمرے کا فلیٹ لینے میں کامیاب ہو گیا مگر وہ تو شاید ساری زندگی آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ میں ہی نکال دیں۔

اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کیونکہ ان کے باپ کے زمانہ میں مزدور تنظیمیں مضبوط تھیں اور محنت کش طبقہ کے پاس بارگینگ پاور تھی۔ اپنے کمپیوٹر سے اس ہی طرح محبت کرنے والا یہ نیا مزدور جیسے اس کا باپ اپنے اوزاروں سے کیا کرتا تھا انفرادیت کے زیور سے آراستہ مگر تن و تنہا روزانہ سرمایہ داری کے تھپیڑے کھانے پر مجبور ہے۔ مگر اس نئے محنت کش کو بھی اپنی انفرادیت کی قربانی دے کر ایک نئے یومِ مزدور کی بنیاد رکھنی پڑے گی۔

آٹومیشن نے اب تک سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا ہے مگر مزدور چاہیں تو اس کا فائدہ وہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر دنیا کے تمام لوگوں میں موجودہ کام کو بانٹ دیا جائے تو اس جدت کی وجہ سے ایک شخص کو 4 سے بھی کم گھنٹے کام کرنے کی ضرورت پیش آئے گی اور بے روزگاری نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ دار زیادہ اجرت دینے پر مجبور ہوگا۔ اوقاتِ کار میں کمی اور مکمل روزگار کی تحریک کے علاوہ محنت کش طبقہ کے پاس اب کوئی اور راستہ نہیں۔

اب تک مشینوں کو ہمارے استحصال کے لئے استعمال کیا گیا ہے مگر اب وقت ہے کہ ہم مشینوں کو استعمال کریں۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں