انڈیا کی ریاست ’کرناٹک کی انتخابی بساط پر بہت کچھ داؤ پر ہے‘

انتخابی مہم
Image caption کرناٹک میں بی جے پی کی جیت ہندوتوا کے یلغار کی بہت بڑی فتح ہو گی لیکن یہاں اس کی شکست ملک کی سیاست میں کانگریس کی موثر واپسی کا واضح اشارہ ہو گا

انڈیا میں بی جے پی کے صدر امت شاہ گذشتہ دو مہینوں سے جنوبی ریاست کرناٹک میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

امت شاہ جلسے جلوسوں اور ریلیوں کے علاوہ وہ درجنوں روڈ شوز کر چکے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی بھی کئی شہروں میں سیاسی ریلیوں سے خطاب کرنے والے ہیں۔

بی جے پی کے درجنوں وزرا اور آر ایس ایس کے ہزاروں کارکن انتخابات میں بی جے پی کی جیت کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔

بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کے مستقبل کے لیے کرناٹک کا انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

کرناٹک میں کانگریس اقتدار میں ہے۔ کئی عشروں سے یہاں برسر اقتدار پارٹی مسلسل دوسری بار اقتدار میں نہیں آئی ہے۔ ریاست کی 224 رکنی اسمبلی سیٹ کے لیے 12 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

کانگریس کی انتخابی مہم کی قیادت خود پارٹی کے صدر راہل گاندھی کر رہے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں کے لیے یہ انتخاب ریاست سے کہیں زیادہ قومی سطح پر اہمیت کا حامل ہے۔

کانگریس کی تر جمان ایشوریہ مہادیو کہتی ہیں کہ کرناٹک ایک بڑی ریاست ہے۔ یہاں لوک سبھا کی 28 نشستیں ہیں۔

Image caption بی جے پی کے درجنوں وزرا اور آر ایس ایس کے ہزاروں کارکن انتخابات میں بی جے پی کی جیت کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں

انھوں نے کہا: ‘یہاں ہماری جیت سے پارٹی کو زبردست حوصلہ ملے گا۔ اگلے مہینوں میں راجستھان، مدھیہ پریش اور چھتیس گڑھ میں انتخاب ہونے والے ہیں۔ ایک برس کے اندر پارلیمانی انتخاب ہوں گے۔ کرناٹک کی جیت ان سبھی انتخابات پر براہ راست اثر انداز ہو گی۔ اس جیت سے یہ پیغام بھی جائے گا کہ ہم بی جے پی اور اس کے ہندوتوا کے نظریے کو مسترد کرتے ہیں۔’

یہ بھی پڑھیے

٭ ’گوری کا قتل یقیناً ان کے نظریات کی وجہ سے ہوا‘

٭ بی جے پی اپنے ہی گڑھ میں کمزور پڑ رہی ہے

بی جے پی کا کرناٹک میں بہت کچھ سیاسی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ پارٹی کی ترجمان ڈاکٹر تیجسونی گوڑا کہتی ہیں ’کرناٹک کی جیت سپیشل ہو گی۔ یہ جیت کانگریس کی سیاست کو سمیٹ دے گی۔ کرناٹک جنوبی انڈیا کا دروازہ ہے۔ یہ جنوب میں بی جے پی کی توسیع کا راستہ کھول دے گا۔‘

بنگلور کے اخبار ’ڈیکن کرونکل‘ کے سیاسی مدیر بھاسکر ہیگڑے کے خیال میں کرناٹک کا انتحاب کانگریس کے لیے بہت اہم ہے۔ ‘یہاں جیت سے کانگریس کو زبردست حوصلہ ملے گا لیکن ہار جیت سے زیادہ یہ کانگریس کے لیے وجود کا سوال ہے۔‘

Image caption کانگریس کی ترجمان ایشوریہ مہادیو کہتی ہیں کہ کرناٹک ایک بڑی ریاست ہے

انتخابات سے پہلے اخباروں اور ٹی وی چینلوں کے ذریعے کیے گئے ووٹروں کے رحجانات کے کئی جا ئزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس کو بی جے پی پر کچھ حد تک برتری حاصل ہے۔ دو سے تین فی صد ووٹروں کا اضافی جھکاؤ دونوں میں سے کسی بھی پارٹی کو اقتدار میں لا سکتا ہے۔

بنگلور کی جین یونیورسٹی کے سیاسی تجزیہ کار سندیپ شاستری کا خیال ہے کہ کرناٹک میں جو ہو گا وہ قومی نکتہ نظر سے بہت اہم ہو گا۔

‘اگر بی جے پی یہاں نہ جیت سکی تو آئندہ مہینوں میں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے ریاستی نتخابات میں جیتنا بی جے پی کے لیے بہت مشکل ہو جائے گا۔ کرناٹک کے نتائج یہ طے کریں گے کہ آئندہ برس کے پارلیمانی انتخابات کے لیے بی جے پی کےخلاف قومی سطح پر کس طرح کا سیاسی محاذ وجود میں آئے گا۔’

یہ بھی پڑھیے

راہل گاندھی کا ‘پپو’ ٹیگ ختم!

گجرات میں راہُل گاندھی فیل ہوئے نہ مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سنہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں اتر پردیش، بہار، گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش، دلی، پنجاب، مہاراشٹر اور ہریانہ میں چند نشستیں چھوڑ کر سبھی سیٹیں حاصل کی تھیں۔ مودی کے چار سال کے دور اقتدار کے بعد زمین پر وہ صورت حال کہیں نظر نہیں آتی جو چار برس قبل تھی۔

Image caption انتخابات سے پہلے اخباروں اور ٹی وی چینلوں کے ذریعے کیے گئے ووٹروں کے رحجانات کے کئی جا ئزوں سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس کو بی جے پی پر کچھ حد تک برتری حاصل ہے

ایک برس قبل تک ایسا لگتا تھا کہ وزیر اعظم مودی سنہ 2019 میں پہلے جیسی مقبولیت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئیں گے۔ آج تجزیہ کار ان کی واپسی کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔

ہندو نظریاتی تنطیموں نے مودی کے اقتدار کے آخری مرحلے میں اپنے نظریاتی ایجنڈے کے نفاذ کو تیز کر دیا ہے۔

رام مندر کی تعمیر جیسے متنازع سوالات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں۔ بی جے پی ملک کی 22 ریاستوں میں اقتدار میں ہے۔ ان میں سے بیشتر ریاستوں میں حکومت کی کمان آر ایس کے ہندوتوا نظریات کے حامل وزرائے اعلیٰ اور وزرا کے ہاتھوں میں ہے۔

سنہ 2019 کی پارلیمانی جیت آر ایس ایس کو انڈیا کو ایک ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے اس کے خواب کی تکمیل سے بہت قریب لا سکتی ہے۔

کرناٹک میں بی جے پی کی جیت ہندوتوا کے یلغار کی بہت بڑی فتح ہوگی لیکن یہاں اس کی شکست ملک کی سیاست میں کانگریس کی موثر واپسی کا واضح اشارہ ہو گا۔

یہ اس بات کا بھی اشارہ ہو گا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہندوتوا کے نظریے کو عوام میں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی جس کے وہ متمنی ہیں۔ کرناٹک کی انتخابی بساط پر بہت کچھ داؤ پر ہے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں