پورن سٹار نے صدر ٹرمپ پر ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا

سٹورمی ڈینیئلز اپنے وکیل کے ہمراہتصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سٹورمی ڈینیئلز اپنے وکیل مائیکل اویناٹی کے ہمراہ

پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز کے وکیل نے کہا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ‘توہین آمیز’ ٹویٹ کی وجہ سے ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

سٹورمی ڈینیئلز، جن کا اصل نام سٹیفنی کلفرڈ ہے، کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی شہر لاس ویگس کے ایک کار پارک میں ایک شخص نے دھمکایا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ سے تعلقات کا الزام واپس لے لیں۔

اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ ‘یہ مکمل فراڈ ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کے ساتھ تعلقات: ’پورن سٹار کو ایک لاکھ ڈالر دیے گئے‘

پورن سٹار نے صدر ٹرمپ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

ٹرمپ کے وکیل کا اعتراف کہ پورن سٹار کو پیسے دیے تھے

تاہم ڈینیئلز کے وکیل نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں جو مقدمہ دائر کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ‘صدر ٹرمپ نے لاکھوں کی تعداد میں اپنی قومی اور بین الاقوامی آڈیئنس استعمال کرتے ہوئے مس کلفرڈ پر حملہ کیا اور انھیں بدنام کیا۔’

مقدمے کی درخواست میں لکھا ہے کہ صدر کی ٹویٹ توہین آمیز ہے اور اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ مس ڈینیئلز نے ایک سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے غلط بیانی سے کام لیا ہے کہ کسی نے انھیں دھمکایا تھا۔

ڈینیئلز نے دھمکی دینے والے آدمی کا خاکہ بنوایا تھا، جسے صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس شخص کا کوئی وجود نہیں ہے۔’

ڈینیئلز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے 2006 میں ان سے جنسی تعلق قائم کیا تھا۔ تاہم ٹرمپ اس کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

ڈینیئلز نے امریکی چینل سی بی ایس نیوز کے پروگرام میں کہا کہ ان تعلقات کے بعد ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ ‘یہ بات بھول جاؤ، ڈونلڈ ٹرمپ کا پیچھا چھوڑ دو۔’

ڈینیئلز کہتی ہیں کہ 2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہن نے انھیں ٹرمپ سے تعلقات کے معاملے پر منھ بند رکھنے کے معاہدے کے طور پر ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر دیے تھے۔

ڈینیئلز پہلے ہی صدر ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہن کے خلاف مقدمہ دائر کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ٹرمپ نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے اس لیے وہ نافذ العمل نہیں رہا۔

کوہن تسلیم کر چکے ہیں کہ انھوں نے ڈینیئلز کو پیسے دیے تھے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم انھوں نے اپنی جیب سے ادا کی تھی۔

اس وقت کوہن صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے معاملے پر ایف بی آئی کی جانب سے زیرِ تفتیش ہیں۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں