# می ٹو: بالی وڈ میں جنسی ہراس حقیقت کیوں ہے؟

انڈیا میں ہر سال ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں فلمسٹار بننے کا خواب لیے ممبئی کا رخ کرتے ہیں لیکن بہت سوں کے لیے یہ تجربہ بھیانک خواب بن جاتا ہے۔

بی بی سی کے راجینی ویدیاناتھ اور پریتکشا نے متعدد اداکاراؤں سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ انھیں فلم ڈائریکٹروں اور کاسٹنگ ایجنٹس کی جانب سے جنسی ہراس کا نشانہ بنایا گیا۔

چھ برس قبل سجاتا (نام تبدیل کر دیا گیا) نے اپنے قدامت پسند والدین کو اس بات کے لیے قائل کر لیا کہ وہ انھیں انڈیا کے ایک چھوٹے گاؤں سے ممبئی جانے کی اجازت دیں تاکہ وہ وہاں بالی وڈ کی اداکارہ کی حیثیت سے قسمت آزمائی کر سکیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ودیا بالن نے خود کو کیسے محفوظ رکھا

’سیکس کے بدلے کام کی پیشکش ہوئی تھی‘

’جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود عورتیں ہی ہیں‘

اس وقت سجاتا کی عمر صرف 19 سال تھی اور ان کے پاس اداکاری کا تجربہ اور روابط بہت کم تھے لیکن سجاتا کو ایسے لوگوں سے رابطہ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا جو انھیں اس صنعت میں داخل ہونے کا راستہ دکھانے کے لیے مشورہ دے رہے تھے۔

انھی لوگوں میں سے ایک کاسٹنگ ایجنٹ نے سجاتا کو اپنے اپارٹمنٹ میں ملنے کا کہا۔ سجاتا نے اس بارے میں کچھ غلط محسوس نہیں کیا کیونکہ بتایا گیا تھا کہ گھروں میں ایسی ملاقاتیں کرنا عام سی بات تھی۔

لیکن ان کے ساتھ وہاں کیا ہوا وہ درد ناک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سجاتا نے بی بی سی کو بتایا ’اس نے مجھے ہر جگہ چُھوا جہاں وہ چھونا چاہتا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ میرے لباس میں ڈال دیا اور جب اس نے میرا لباس اتارنا شروع کیا تو میں منجمند ہو گئی۔‘

سجاتا کا کہنا ہے ’جب میں نے اس شخص کو ایسا کرنے سے منع کیا تو اس نے کہا کہ میرا انداز اس صنعت کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘

بی بی سی کے پاس سجاتا کے دعوے کی تصدیق کرنے کا کوئی آزادانہ طریقہ نہیں ہے لیکن سجاتا نے ہمیں بتایا کہ انھیں اداکاری کا کام حاصل کرنے کے لیے کئی مرتبہ جنسی ہراس کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک بار پولیس کے پاس گیئں لیکن ان کی شکایت نہیں سنی گئی. بلکہ حکام نے ان کی شکایت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ‘فلمی لوگ’ جو چاہے وہ کر سکتے ہیں۔

سجاتا نے بی بی بی سے سے اپنی شناخت چھپانے کو کہا کیونکہ وہ اس بارے میں بات کرنے سے خوفزدہ تھیں۔

سجاتا کا خیال ہے کہ اگر کوئی اداکارہ اس بارے میں بات کرتی ہے تو اس پر پبلسٹی یا پیسہ حاصل کرنے کا الزام عائد کر دیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی ساکھ برباد کر دی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بہت سے لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ انڈین فلم انڈسٹری میں کردار حاصل کرنے کے بدلے میں جنسی خواہشات کا مطالبہ عام ہے۔

بی بی سی نیوز نے تقرییاً ایک درجن نوجوان اداکاراؤں سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ انھیں بھی فلموں میں کردار حاصل کرنے کے لیے بھیانک تبصروں اور جنسی ہراس کا سامنا کرنا پڑا۔

ایسی لڑکیاں اپنی اصلیت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ انھیں اس بات کا خوف ہے کہ انھیں جھوٹا قرار دے دیا جائے گا اور انھیں انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اوشا جھادو ان چند خواتین میں سے ایک ہیں جو جنسی ہراس کے تجربات کے حوالے سے عوام میں بات کرنے پر رضا مند ہیں۔

اوشا اس انڈسٹری میں ایک دہائی سے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ نیشنل فلم ایوارڈ جیتنے کے باوجود انھیں ابھی تک جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

انھیں امید ہے کہ ان کی کہانی سننے کے بعد دیگر اداکارائیں بھی اپنے تجربات شیئرکرنے کے لیے آگے آئیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ پہلی بار بالی وڈ آئیں تو انھیں بتایا گیا کہ انھیں آگے جانے کے لیے ڈائریکٹروں اور پروڈیوسروں کے ساتھ سونا ہو گا۔

وہ اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں ’مجھے کہا گیا ہم آپ کو کچھ دے رہے ہیں آپ کو بھی ہمیں واپسی میں کچھ دینا ہو گا۔‘

اوشا نے بتایا کہ انڈین فلم انڈسٹری میں چند نوجوان خواتین کا یہ خیال ہے کہ ان کے پاس ہاں کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے ہمیشہ اس طرح کے جنسی پروپوزیشنز کو مسترد کر دیا لیکن انھوں نے چند پروڈیوسروں کی جانب سے ان دھمکیوں کا بھی سامنا کیا جس میں ایک شخص کی دھمکی بھی شامل ہے جس نے انھیں کہا کہ وہ انھیں اپنی فلم میں نہیں لے گا کیونکہ انھوں نے ان کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

اوشا کے بقول ’اس نے مجھے کوسا اور کہا کہ آپ کو اچھے کردار نہیں ملیں گے، آپ کے ساتھ کچھ بھی اچھا نہیں ہوگا. پھر میں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ آپ کے پاس اتنی طاقت ہے۔‘

انڈین فلم سٹار رادیکھا نے فلم انڈسٹری میں جنسی ہراس کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ طاقت ایک ایسا عنصر ہے جو اس طرح کی چیزوں کو جنم دیتا ہے۔

اگرچہ بالی وڈ کے بڑے نام جنسی ہراس کے حوالے سے خاموش رہے لیکن رادیکھا ان میں سے ایک ہیں جنھوں نے اس مسئلے پر بات کی۔

رادیکھا نے حالیہ دنوں ریلیز ہونے والی بلاک بسٹر فلم ’پیڈ مین‘ میں کام کیا۔ ’ پیڈ مین کی کہانی ایک شخص کے بارے میں ہے جس نے خواتین کے لیے سستی سینیٹری پیڈ بنائے۔ رادیکھا آن اور آف اسکرین دونوں پر خواتین کے حقوق کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا ’میں نے اس موضوع پر کھل کر بات کرنی شروع کی۔ میں صنعت کی ان خواتین کی حالت سمجھتی ہوں جو ان مسائل پر بات کرنے سے ڈرتی ہیں۔‘

اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ بالی وڈ میں داخل ہونے کے لیے کوئی آسان یا واضح طریقہ نہیں ہے، لہذا ایسے واقعات میں خواتین اداکاروں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔

رادیکھا نے بتایا کہ انڈین فلموں میں کردار حاصل کرنے کا زیادہ دارومدار ذاتی تعلقات، سماج میں ہماری رسائی اور ہم کس طرح نظر آتے ہیں، یہ سب اہم ہے جبکہ ہالی وڈ میں یہ ایک رسمی عمل ہے جس میں اداکارہ کو ایکٹنگ میں داخلہ لینا پڑتا ہے۔

رادیکھا کی خواہش ہے کہ ہالی وڈ کی طرح بالی وڈ میں ’ #می ٹو‘ کی تحریک ہونی چاہیے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا تب تک نہیں ہو سکتا جب تک بالی وڈ کے بڑے نام آگے نہیں آتے ہیں۔

ایک اور معروف اداکارہ کالکی کوئچلن نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بھی ماضی میں اس حوالے سے کھل کر بات کی تھی جب انھیں اس وقت جنسی ہراس کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک بچی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کے بقول وہ ایسے نوجوان اداکار اور اداکاراؤں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہیں جو اپنی کہانیوں کو شیئر کرنے سے خوفزدہ ہیں۔

کالکی کوئچلن نے حالیہ دنوں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’اگر آپ کچھ نہیں ہیں تو لوگ آپ کی بات کو نہیں سنتے لیکن اگر آپ سیلبریٹی ہیں اور آپ اس حوالے سے بات کرتے ہیں تو یہ ہیڈ لائن بن جاتی ہے۔‘

انڈیا میں حالیہ دنوں فلم پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور اداکاروں کی جانب سے کام کے بدلے جنسی تعلقات کے مطالبے کے خلاف نیم برہنہ احتجاج کرنے والی اداکارہ سری ریڈی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

تیلگو فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی اداکارہ سری ریڈی کا کہنا تھا ‘میں اپنی جنگ میں بے بس ہوں کیونکہ میرا درد کسی کو نظر نہیں آتا اس لیے مجھے ایسا قدم اٹھانا پڑا۔’

واضح رہے کہ سری ریڈی نے تیلگو فلم انڈسٹری میں مبینہ طور پر جنسی ہراس کے خلاف بطور احتجاج حیدر آباد میں مووی آرٹسٹز ایسوسی ایشن کے سامنے اپنے کپڑے اتارے تھے جس کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

سری ریڈی نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا ’اگر فلم انڈسٹری کے لوگ چاہتے ہیں تو میں انھیں اپنی برہنہ تصاویر بھیج دیتی ہوں۔‘

حال ہی میں ایک نوجوان اداکارہ کو مبینہ طور پر گاڑی سے اغوا کر لیا گیا تھا جس کے بعد انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ نے فلم انڈسٹری میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک گروپ بھی قائم کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنسی ہراساں صرف خواتین تک محدود نہیں ہے۔

بالی وڈ کے معروف اداکاروں میں سے ایک رنویر سنگھ نے سنہ 2015 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں بھی کاسٹنگ کاؤچ کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ بالی وڈ کے چند منتخب کردہ اداکاروں میں سے ایک ہے جنھوں نے جنسی ہراس کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اسی طرح، اداکار، ڈائریکٹر اور گلوکار فرحان اختر نے بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بالی وڈ میں ان خواتین کی حمایت کریں گے جو اس بارے میں بات کرنا چاہیں گی۔

فرحان کہتے ہیں ’جب خواتین کہتی ہیں کہ یہاں ایسا ہو رہا ہے، میں ان پر یقین کرتا ہوں۔‘

فرحان کو یقین ہے کہ بالی وڈ کی # می ٹو مومنٹ اپنے راستے میں ہے۔ ’یہ اس وقت تبدیل ہو گا جب خواتین اس پر کھل کر بات کریں گی۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں