ایران نے ایٹم بم بنانے کی کوشش کی تھی: اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu speaks to media in Tel Aviv, 30 Aprilتصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے ‘خفیہ ایٹمی فائلیں’ افشا کی ہیں جن کے مطابق ایران نے خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے ہزاروں ایسی دستاویزات حاصل کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے دنیا کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ اس نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی۔

ایران نے 2015 میں ایک معاہدے کے تحت اپنے ایٹمی پروگرام کو روکنے کا وعدہ کیا تھا جس کے بدلے میں مغربی ملکوں نے اس پر عائد پابندیاں اٹھا لی تھیں۔

ایران کہتا ہے کہ وہ صرف پرامن ایٹمی توانائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے سخت مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ’قابلِ قبول‘ نہیں ہے۔ انھیں 12 مئی سے قبل اس بارے میں فیصلہ جاری کرنا ہے۔

تاہم یورپی ملکوں کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کریں گے۔

اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ٹویٹ کر کے کہا کہ نتن یاہو لوگوں کو بےوقوف بنا رہے ہیں۔

نتن یاہو نے کیا ‘ثبوت’ پیش کیا؟

تل ابیب سے انگریزی میں تقریر کرتے ہوئے نتن یاہو نے دستاویزات دکھا کر کہا کہ یہ ان دستاویزات کی نقول ہیں جو اسرائیلی جاسوس ادارے نے تہران سے حاصل کی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 55 ہزار صفحات اور 153 سی ڈیز پر مشتمل یہ دستاویزات ایران کے ایٹمی اسلحے کے پروگرام سے متعلق ہیں جس کا خفیہ نام ‘پروجیکٹ آماد’ تھا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس پروجیکٹ کا واضح مقصد پانچ ایٹم بم تیار کرنا تھا، جن میں سے ہر ایک کی طاقت دس کلو ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہوتی۔

پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے نتن یاہو نے کہا کہ ان کی حاصل کردہ دستاویزات ہیں سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے اہم اجزا پر کام کیا تھا جن میں ان کا ڈیزائن اور ایٹمی تجربے کی تیاری شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران نے ایٹمی تجربے کے لیے پانچ مختلف جگہوں پر غور کیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا: ‘ان فائلوں سے قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ ایران جب یہ کہہ رہا تھا کہ وہ ایٹم بم نہیں بنا رہا تو وہ سفید جھوٹ بول رہا تھا۔’

نتن یاہو نے بتایا کہ یہ فائلیں امریکہ کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں اور انھیں ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے بھی حوالے کیا جائے گا۔

2007 میں امریکی انٹیلی جنس نے ‘بڑے اعتماد کے ساتھ’ تخمینہ لگایا تھا کہ ایران 2003 تک ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام پر کام کر رہا تھا، لیکن بعد میں اس نے اسے ترک کر دیا۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں