ایران میں احتجاجی پیغامات کے لیے کرنسی نوٹوں کا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER / @MOHAMMA22877029
Image caption ایران میں احتجاجی پیغامات کے لیے کرنسی نوٹوں کا استعمال کیا جا رہا ہے

ایران میں سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر کے بعض صارفین کرنسی نوٹوں پر نعرے لکھ کر احتجاجی پیغامات پھیلا رہے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’کرنسی نوٹ ہمارا وہ میسنجر ہے جسے سینسر نہیں کیا جا سکتا۔‘ انھوں نے ایسا ایران میں پیغامات بھیجنے کے لیے سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ایپ ٹیلی گرام کو مکمل طور پر بند کرنے کی خبروں پر کہا ہے۔

کرنسی نوٹوں پر درج نعروں میں ’میں ایک تختہ الٹنے والا ہوں‘ جیسے نعرے بھی شامل ہیں۔

سکارف اتارنے والی ایرانی خاتون رہا

ایران: حکومت مخالف احتجاج میں پولیس اور مظاہرین کی جھڑپیں

ان میں سے بعض نعرے تو وہی ہیں جو گذشتہ سال حکومت مخالف بڑے مظاہروں کے دوران لگائے گئے تھے۔

دسمبر میں مظاہرین ملک کی معاشی اور سماجی صورتحال پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

ان مظاہروں کے دوران ٹیلی گرام کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ واحد ایسی ایپ تھی جس کے ذریعے لوگ مظاہروں کے حوالے سے معلومات حاصل کرتے اور آگے پہنچاتے تھے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق اٹھائیس اپریل سے اب تک #Onehundredthousand_talking_banknotes کے تحت فارسی زبان میں آٹھ ہزار کے قریب ٹوئٹس کی جا چکی ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر پوسٹیں نئی آن لائن مہم کے بارے میں آگہی پیدا کرنا ہے۔

دیگر پیغامات میں کہا گیا ہے: ’ہمارا دشمن یہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ امریکہ ہے۔‘

زیادہ تر پوسٹیں نامعلوم اکاؤنٹس سے کی گئی ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ویسے تو ایران میں ٹوئٹر پر سرکاری طور پر پابندی ہے تاہم ایران کے رہبر اعلیٰ، صدر اور دیگر حکام ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں۔ عام عوام پراکسی سروسز کے ذریعے ٹوئٹر استعمال کر سکتے ہیں۔

@Iran_white_rose نامی اکاؤنٹ سے بینک نوٹ مہم کو ’سوشل میڈیا اور معاشرے کے درمیان پل‘ اور ’سول نافرمانی‘ قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER / @N_A_R_R_A_T_O_R
Image caption تصویر شائع میں ایک نوٹ پر حالیہ ‘گرلز آف انقلاب سٹریٹ’ مہم کو خراج تحسین پیش کیا گیا

ایک اور صارف @N_a_r_r_a_t_o_r نے ایک تصویر شائع کی جس پر ایک نوٹ پر حالیہ ’گرلز آف انقلاب سٹریٹ‘ مہم کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ یہ مہم حجاب کو لازمی قرار دینے کے خلاف تھی۔

گذشتہ ہفتے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے یہ کہہ کر اپنا ٹیلی گرام چینل بند کر دیا تھا کہ اس سے ’ملکی مفاد کو تحفظ دینے میں مدد ملے گی۔‘ بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ان کے اس اقدام کو مکمل پابندی کی جانب ایک اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔

ایران میں 40 ملین افراد ٹیلی گرام ایپ کا استعمال کرتے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین اور حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اس ایپ کا استعمال ختم کر دیں۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں