’برابری اور وقار کے لیے ہندو مذہب ترک کر دیا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’ہزاروں برس سے ہم ہندو ہیں لیکن ہمیں ہندو نہیں مانا جاتا`

انڈیا کی ریاست گجرات کے قصبے اونا کے سمادھیالہ گاؤں میں تقریباً تین سو دلتوں نے ذات پات کی بنیاد پر تفریق اور تشدد کے خلاف ہندو مذہب ترک کر کے بدھ مذہب اختیار کر لیا ہے۔

ان میں وہ دلت بھی شامل تھے جنھیں دو برس قبل اونچی ذات کے ہندوؤں نے گائے کی کھال اتارنے کی پاداش میں پورے شہر میں گھما کر سرعام کوڑے مارے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق اونا قصبے کے نزدیک سمادھیالہ گاؤں میں ایک باضابطہ تقریب میں بالو سرویا، ان کی بیوی اور بچوں سمیت تین سو زیادہ دلتوں نے بدھ مذہب اختیار کیا۔

’ہم بدھ کی پناہ لیتے ہیں‘ کے منتر کے جاپوں کے درمیان دلتوں کو 22 اصولوں پر عمل کرنے کا عہد کرایا گیا۔ ان میں ہندو دیوی، دیوتاؤں کو خدا نہ ماننے اور ان کی پوجا نہ کرنے کا عہد بھی شامل تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ KK Net
Image caption بالو نے بدھ مذہب اختیار کرنے کے بعد کہا کہ ‘آج سے ہم نئی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں’

اسی بارے میں مزید پڑھیں!

گھوڑا رکھنے پر دلت نوجوان قتل

‘ہزاروں دلت ہندو سے بدھ ہو گئے‘

‘گائے کی موت پر ہنگامہ اور دلت پر خاموشی’

‘ہمیں تو یہ ہندو مانتے ہی نہیں’

جولائی 2016 میں اسی گاؤں میں مبینہ طور پر ہندو گئو رکھشکوں نے بالو سرویا کے بیٹوں اور بھتیجوں پر گائے مارنے کا الزام لگا کر انھیں اونا قصبے میں نیم برہنہ حالت میں گھمایا تھا اور سر عام پٹائی کی تھی۔

نامہ نگار کے مطابق اونا کے متاثرہ واشرم سوریا نے کہا کہ ’اس واقعے کے دو برس گزر چکے ہیں لیکن حکومت نے کوئی مدد نہیں کی۔ ہمیں انصاف نہیں ملا۔ سبھی ملزم ضمانت پر رہا ہیں۔ ہم برابری اور وقار کے لیے ہندو مذہب ترک کر رہے ہیں۔‘

اونا کے واقعے کے بعد پورے ملک میں دلتوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ بالوسرویا نے کہا کہ ’ہم دلتوں پر مظالم اور تشدد کی علامت بن گئے تھے۔ ہمیں اب بھی تفریق کا سامنا ہے۔ ہماری برادری کے لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اتنا جھیلنے کے باوجود آپ ہندو مذہب میں کیوں ٹکے ہوئے ہیں۔ ہم آج بھی اونا کے تشدد کی ویڈیو کو دیکھ کر کانپ جاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ KK Net
Image caption ‘ہم بدھ کی پناہ لیتے ہیں” کے منتر کے جاپوں کے درمیان دلتوں کو 22 اصولوں پر عمل کرنے کا عہد کرایا گیا

بالو نے بدھ مذہب اختیار کرنے کے بعد بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج سے ہم نئی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں ۔‘

اونا کے متاثرین نے بہت پہلے اعلان کر دیا تھا کہ وہ اپنے اہل خاندان کے ساتھ ہندو دھرم ترک کرنے والے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ہندو دھرم میں انھیں مسلسل تفریق اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

اتوار کو ہونے والی تبدیلئ مذہب کی اس تقریب کا انعقاد سرویا خاندان نے کیا تھا۔ اس میں گجرات کے دوسرے حصوں سے آنے والے دلتوں نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے دوران بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں