کابل: دو دھماکوں میں صحافیوں سمیت 25 افراد ہلاک

کابلتصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دوسرا حملہ ان لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا جو پہلے دھماکے کے بعد وہاں اکٹھے ہوئے تھے

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کئی صحافیوں سمیت کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی چیف فوٹو گرافر شاہ مری بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح کابل کے علاقے شش درک میں ایک موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے پہلا بم دھماکہ کیا۔

اس کے 15 منٹ بعد دوسرا دھماکہ اس وقت ہوا جب جائے حادثہ پر کئی افراد اور صحافی جمع تھے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ کابل حملہ: عورتوں اور بچوں سمیت 57 افراد ہلاک

٭ ’طالبان افغانستان کے 70 فیصد علاقے کے لیے خطرہ‘

خبررساں ادارے اے ایف پی نے نے کہا کہ دوسرا دھماکہ صحافیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانےکے لیے کیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں چھ صحافی اور چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ اب تک 45 زخمی ہیں۔

ششدرک ضلعے میں افغانستان کی وزارت دفاع، انٹیلی جنس سروس اور نیٹو کا احاطہ بھی تھا۔

اس دھماکے میں درجنوں دوسرے افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

اس سے قبل اپریل کے اوائل میں ایک خودکش بمبار نے ووٹر ریجسٹریشن مرکز پر دھماکہ کیا تھا جس میں تقریبا 60 افراد ہلاک جبکہ 119 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

رواں سال بی بی سی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں دولت اسلامیہ اور طالبان سرگرم ہیں اور ملک کا صرف 30 فیصد علاقہ ہی پوری طرح سے حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

شاہ مری کی یاد میں

محفوظ زبیدے، بی بی سی نیوز

شاہ مری نے سنہ 1990 کی دہائی میں طالبان کے دور میں اے ایف پی کے ڈرائیور کی حیثیت سے کام شروع کیا تھا۔

دنیا کے امور میں ان کی دلچسپی اور فوٹوگرافی سے محبت کے نتیجے میں انھیں تربیت کے لیے فرانس بھیجا گیا۔

جب وہ تربیت کے بعد واپس آئے تو ان کی حیرت انگيز آنکھوں نے اپنے شہر کابل کے سب سے پرآشوب دور میں انسانیت کے لمحات کو قید کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SHAH MARAI/AFP
Image caption شاہ مری کی لی ہوئی ایک تصویر جس میں ایک خاتون کو امداد مانگتے دیکھا جا سکتا ہے

ان کی شاہکار تصاویر میں گذشتہ سال شیعہ مسجد پر ہونےوالے حملے کے نتیجے میں صدمے سے بت بن جانے والے ایک بچے کی تصویر ہے جسے پولیس والے مسجد سے نکلنے کے لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ حملہ آور اس وقت تک اندر ہی تھے اور بچہ اپنے والد کی تلاش کر رہا تھا۔

ان تمام باتوں کے درمیان شاہ مری پرسکون اور مسکراتے ہوئے مثبت نظر آئے۔ انھیں خطروں سے کبھی خوف نہیں آیا۔

لیکن انھیں اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب ان کے ساتھی صحافی سردار احمد چند سال قبل کابل کے سرینا ہوٹل پر ہونے والے ایک دوسرے حملے میں مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SHAH MARAI / AFP
Image caption یہ بھی شاہ مری کی لی ہوئی ایک تصویر ہے جس میں ایک بچی کو کوڑے کے ڈھیر پر دیکھا جا سکتا ہے

شاہ مری کو میں اپنے بچپن سے جانتا ہوں اور ہم دونوں کابل میں میڈیا کے لیے کام کرتے ہوئے ایسے ہی سانحے کے مقامات پر ملتے رہے ہیں۔

وہ صحافی برادری میں بہت سے لوگوں کے دوست تھے اور ہم سب ان کی موت کا سوگ منا رہے ہیں۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں