فرانس کے صدر کا دیا تحفہ وائٹ ہاؤس سے غائب

A photo showing the spot where French President Emmanuel Macron's sapling once stoodتصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تصویر میں پودے کی جگہ اب پیلے رنگ کی گھاس دکھائی دے رہی ہے

فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور تحفہ دیا گیا پودا غائب ہو گیا ہے۔ اس پودے کو وائٹ ہاؤس کے باغ میں امریکہ اور فرانس کے صدر نے مل کر لگایا تھا۔

یہ پودا فرانس کے شمالی مشرق میں اُس علاقے سے لایا گیا تھا جہاں جنگِ عظیم دوئم میں کئی امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ یہ درخت ’ہمیں اُن چیزوں کی یاد دلائے گا، جو ہمیں جوڑے ہوئے ہے۔‘

لیکن زمین میں پودا لگانے کے چار دن بعد وہ پودا وہاں موجود نہیں تھا۔

مزید جانیے

وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش

وائٹ ہاؤس بریفنگ ’گیگل‘ سے اہم میڈیا ہاؤسز خارج

فرانس کے نومنتخب صدر کی انوکھی محبت

دلچسپ بات یہ ہے کہ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے فوٹو گرافر نے وائٹ ہاؤس کے جنوبی باغ کی جو تصویر لی ہے اُس میں نیا لگایا گیا پودا نظر نہیں آ رہا ہے اور تصویر میں پودے کی جگہ اب پیلے رنگ کی گھاس دکھائی دے رہی ہے۔

یورپین نسل کا شاہ بلوط کا یہ درخت اُس مقام سے لایا گیا جہاں 1918 میں لڑائی ہوئی تھی۔ شمال مشرقی فرانس میں ہونے والی لڑائی میں تقریباً دو ہزار امریکی فوجی مارے گئے تھے۔

سرکاری طور پر پودے کے لاپتہ ہونے کے اس معمے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی لیکن اس پودے کے بارے میں بہت قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

فرانسیسی ریڈیو نیٹ ورک نے ایک ویب سائٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’اس نوعیت کے شاہ بلوط کے پودے خزاں میں لگائے جاتے ہیں تاکہ گرمیوں کے خشک موسم کو برداشت کرنے کے لیے اُن کی جڑیں نچیے گہرائی تک ہو۔ شاید یہ درخت اکتوبر میں واپس آ جائے۔‘

فرانسیسی صدر کے اس تحفے کا انٹرنیٹ پر بھی بہت تذکرہ ہوا۔ دونوں صدور کی پودا لگاتے ہوئے تصویر بھی شیئر کی گئی تھی۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں