امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار زخمی

اسلام آباد
Image caption امریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکریٹری چاڈ ریکس کو گاڑی سمیت تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کیا گیا

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اور امریکی سفارت کار کی گاڑی کی ٹکر سے دو موٹرسائیکل سوار زخمی ہو گئے ہیں جنھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں اتوار کی شب پیش آنے والا یہ واقع سیکریٹریٹ چوک کے قریب ہوا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سیکرٹریٹ چوک پر امریکہ سفارت خانہ کے سیکنڈ سیکریٹری کی گاڑی نے ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، جس سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اس بارے میں مزید جانیے

’امریکی سفارت کار کو پاکستان سے نکالا ہی جا سکتا ہے‘

’سفارتکار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے بارے میں فیصلہ کریں‘

طالب علم کی ہلاکت پر امریکی سفیر سے احتجاج

پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی امریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکریٹری چاڈ ریکس چلا رہے تھے، جنھیں بعد میں گاڑی سمیت تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایک ماہ کے دوران امریکی سفاتکاروں کی گاڑی کی ٹکر کا یہ دوسرا واقع ہے۔

Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی امریکی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکریٹری چاڈ ریکس چلا رہے تھے

اس سے پہلے امریکی سفارت خانے کے فوجی اتاشی کرنل جوزف نے اشارہ توڑ کر ایک پاکستانی طالب علم کی موٹرسائیکل کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ طالب علم ہلاک اور اس کا ساتھی شدید زخمی ہو گیا تھا۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوان عتیق بیگ کے والد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کرنل جوزف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست دائر کی تھی۔

اسلام آْباد ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت جاری ہے جبکہ وزارتِ داخلہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو کچلنے کے واقعے میں ملوث امریکی سفارتکار کرنل جوزف امینوئل ہال کو بلیک لسٹ کر دیا ہے جس کے بعد وہ متعلقہ حکام یا عدالت کی اجازت کے بعد ہی ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

پاکستانی حکام نے امریکی سفارت کار کی گاڑی سے ٹکرانے کے نتیجے میں طالب علم کی ہلاکت کے واقعے پر امریکی سفیر دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔

یاد رہے کہ عام طور پر ایسے معاملات میں سفارت کاروں کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISLAMABAD POLICE
Image caption حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید گاڑی نے اشارہ توڑا ہے

اس سے قبل 2011 میں ایک امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، جبکہ بعد میں انھیں لینے کے لیے آنے والی گاڑی نے سڑک کی رانگ سائیڈ پر چلتے ہوئے ایک شخص کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد امریکہ نے پاکستان پر شدید سفارتی دباؤ ڈال کر ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروا دیا تھا۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں