موجودہ جوہری معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ایران

روحانی اور میخواںتصویر کے کاپی رائٹ REUTERS & AFP
Image caption ایران اور فرانس کے رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی

فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے بات چیت کی ہے اور انھیں جوہری مذاکرات میں شامل ہونے پر زور دیا ہے۔

ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ سات عالمی طاقتوں کے ساتھ قائم موجودہ جوہری معاہدے پر ’سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘

اس سے قبل فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے اتفاق کیا تھا کہ موجودہ جوہری معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اٹھائے جانے والے بعض خدشات کا تدارک بھی ضروری ہے۔

صدر ٹرمپ آنے والے ہفتوں میں یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ وہ سنہ 2015 میں ہونے والے معاہدے میں شامل رہیں گے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ٹرمپ کو ایران جوہری معاہدہ ختم نہیں کرنے دیں گے‘

امریکہ کا ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور

’ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنا تباہ کن ہوگا‘

صدر ٹرمپ اس بین الاقوامی معاہدے کی سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’پاگل پن‘ قرار تھا۔

ایران اور فرانس کے رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔ صدر میکخواں نے کہا کہ مذاکرات کو تین اضافی ناگزیر موضوعات کو شامل کرنے کے لیے وسیع کیا جائے جس میں سنہ 2025 میں اس معاہدے کے خاتمے کے بعد کی صورت حال پر مباحثہ، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں ایران کی شمولیت اور اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمینوئل میخواں، ٹریزا مے اور اینگیلا میرکل نے موجودہ معاہدے کو جاری رکھنے پر اتفاق کی ہے

صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے صدر میکخواں کے ساتھ ملاقات کے دوران ان مسائل کا ذکر کیا تھا۔

ایرانی صدر کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق صدر روحانی نے صدر میخواں کو بتایا کہ ایران سنہ 2025 کے بعد بین الاقوامی قوانین کی ’اپنے وعدے سے زیادہ پابندیوں کو قبول نہیں کرے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’صدر ٹرمپ معاہدہ برقرار رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے‘

’میرے خیال میں امریکہ معاہدہ توڑ دے گا‘

انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے معاہدے میں شامل رہنے کی صورت میں بھی یہ ان کے لیے ’قابل قبول نہیں ہوگا‘ کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ سلوک نے ایران کی بین الاقوامی ساکھ خراب کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ ہفتے امریکی اور فرانسیسی صدور نے ایران کے معاہدے کے متعلق بات چیت کی ہے

بہر حال صدر روحانی نے کہا کہ وہ فرانس کے ساتھ رشتے مضبوط کرنے کے لیے کام کریں گے اور ‘تمام شعبے’ میں تعاون کرنا چاہیں گے۔

ایمینوئل میکخواں، برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے اور جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل نے ہفتہ وار چھٹیوں پر علیحدہ علیحدہ فون کالز میں ایران کے ساتھ مجودہ معاہدے کی پابندی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ادھر نئے امریکی وزیر خارجہ مائک پوم پے او نے اتوار کو سعودی عرب کے اپنے پہلے دورے پر ان کے مطابق علاقے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں