یہ جناح کاپاکستان نہیں ہے،عمران خان

 

پی ٹی آئی کےچئیرمین عمران خان نےکہاہےکہ یہ وہ پاکستان نہیں جس کا خواب قائداعظم نے دیکھاتھا۔ اس ملک نےکبھی ترقی نہیں کی جس نےاپنےبچوں کوتعلیم نہیں دی۔جوملک مقروض ہوتاہےوہ کبھی آزادنہیں ہوسکتا۔

لاہورمیں پی ٹی آئی کے جلسےسے خطاب کرتےہوئےچئیرمین عمران خان نےکہاکہ خون کے آخری قطرےتک قوم کومایوس نہیں کروں گااور قوم کےلیے لڑوں گا۔ انھوں نے کہاکہ قوم جب نظریے یہ ہٹی ہےتو تباہ ہوجاتی ہے۔پاکستان آج نظریے کےبرعکس جارہی ہے۔

انھوں نےکہاکہ آج آپ سب خودسےسوال پوچھیں کہ پاکستان کیوں بناتھا، قائداعظم جوپاکستان چاہتےتھےاس میں سب کےحقوق تھے۔ قائداعظم اس نتیجے پرپہنچےکہ کانگریس ہندوراج چاہتی تھی ۔ قائداعظم نےسوچاکہ مسلمانوں کےحقوق کاتحفظ کیسےکیاجائےگا، اس لیے پاکستان کاقیام عمل میں

آیا۔

انھوں نے کہاکہ آج تقریر میں نعرے لگوانےنہیں بلکہ پاکستان کےلیے پلان دینے  آیاہوں۔ عمران خان کاکہناتھاکہ قائد اعظم پاکستان کو مدینہ کی ریاست جیسا  بنانا چاہتے تھے۔مدینہ کی ریاست میں انصاف اور سب کے لئے برابر قانون تھا۔مدینہ کی ریاست میں میرٹ قائم تھی۔نبی کریم ﷺ مدینہ کی ریاست میں میرٹ لےکرآئے۔ مدینہ کی ریاست دنیاکی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست تھی۔ مسلمان جب تک نبی ﷺکےاصولوں پرکھڑےرہے،عظیم قوم بنےرہے۔

عمران خان نےکہاکہ قائداعظم کےمخالف بھی قائداعظم کی عزت کرتےتھے۔ قائداعظم غلام ہندوستان میں بھی ایک آزادلیڈرتھے۔ ہندوستان سےکھیل کریہاں آتاتھاتولگتاتھاکہ کسی امیرملک میں آگئے۔

انھوں نےکہاکہ پاکستان نہ ہوتا تو مسلمانوں کا وہی حال ہوتا جو مودی کے ہندوستان میں ہے۔ پاکستان میں تمام اقلیتوں کوبرابرکےحقوق حاصل ہیں۔ چئیرمین پی ٹی آئی نےسوال کیاکہ بیرون ملک کتنےپاکستانیوں کوپکڑکرجیلوں میں ڈال دیتےہیں۔ پہلے پاکستانیوں کی دنیا میں کتنی عزت تھی،آج کتنی ہے؟

انھوں نے کہاکہ پاکستان کی 60 سالہ تاریخ میں 6 ہزار ارب روپے کا قرض تھا۔2008 سے 2013 تک زرداری کے دور میں بڑھ کر13 ہزار ارب تک پہنچا۔صرف 5 سال میں پاکستان پرقرض دگناہوگیا۔قرضہ 13  ہزار ارب سے 27 ہزار ارب تک پہنچ گیا۔انھوں نے مزید کہاکہ اب ہرچیزپرٹیکس لگایاجارہاہےکیوں کہ ہم نے قرض کی قسطیں واپس کرنی ہیں۔ ہمارےپاس قرضوں کی قسطیں واپس کرنےکیلئےپیسہ نہیں ہے۔ ہمیں قرضوں کی قسطیں واپس کرنےکیلئےقرض لیناپڑتاہے۔

عمران خان نے کہاکہ یادرکھوجوملک مقروض ہوتاہےوہ کبھی آزادنہیں ہوسکتا۔ جوآپ کوقرضہ دیتاہےوہ آپ کوغلام بنالیتاہے۔ چھوٹاسامافیاملک سےپیسہ چوری کرکےباہرلےجاتاہے۔

سیاست میں آنےسے متعلق عمران خان نےکہاکہ مجھےسیاست کاکوئی شوق نہیں تھا۔ جب میری والدہ کوکینسرکا مرض لاحق ہواتب میری زندگی بدل گئی۔ جب والدہ کوکینسرہوا توپتاچلاکہ یہاں کوئی کینسراسپتال نہیں ہے۔ یہاں کینسراسپتال ہوتاتومیری والدہ کایہاں علاج ہوسکتاتھا۔ اس دن میں نےفیصلہ کیاکہ میں پاکستان میں کینسراسپتال بناؤں گا۔ ن لیگ سمجھتی ہےکہ میں لاڈلہ ہوں،میں اپنی والدہ کالاڈلہ تھا۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں