جامعات میں وائس چانسلرز تقرری کی نئی پالیسی پر چیف جسٹس برہم

  • 857 Views
  • April 29, 2018 3:16 pm PST
pag1-image

لاہور

سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز تقرری کے طریقہ کار پر پنجاب حکومت سے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے چیف سیکرٹری پنجاب کو حکم جاری کیا کہ سرکاری جامعات میں وائس چانسلرز تقرری کے نئے فارمولے کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے اور عدالت کو بتایا جائے کہ کس کس طریقہ کار کے تحت وائس چانسلرز تقرر کرنے کی پالیسی بنائی گئی ہے۔

فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشنز (فپوآسا) کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر نعمان نے چیف جسٹس کے سامنے پیش ہوئے اور عدالت سے استدعا کی وائس چانسلر تقرری کے نئے طریقہ کار کا نوٹس لیا جائے اس طریقہ کار کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے۔

لازمی پڑھیں؛وائس چانسلر کیلئے بیوروکریٹ، ورلڈ بنک/آئی ایم ایف نمائندہ بھی اہل قرار

ڈاکٹر نعمان نے عدالت کو بتایا کہ این جی اوز کا تجربہ رکھنے، پی ایچ ڈی کی ڈگری کے بغیر افراد کو بھی وائس چانسلر کے عہدے کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے وائس چانسلر تقرری کے طریقہ کار میں ایک ارب روپے تک کے ریسرچ پراجیکٹس کرنے کی شق بھی شامل کر دی ہے جبکہ ایک پروفیسر ایک ارب روپے کا ریسرچ پراجیکٹس کیسے کرسکتا ہے؟

چیف جسٹس آف پاکستان نے چیف سیکرٹری کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم جاری کیا اور فپوآسا کے عہدیداروں کو یقین دلایا کہ وہ اس پر از خود نوٹس لیں گے کہ کس طرح سے وائس چانسلر تقرر کیے جارہے ہیں اور اس پر فیصلہ بھی سنائیں گے۔


This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں