سوچتے رہیے کیونکہ لاہور میں اب سوچنے والے بھی مفقود ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عید میلاد النبی کے موقع پر لاہور کے بازار کو خوب سجایا گیا ہے

لاہور شہر نے پچھلے 70برسوں میں سماجی لحاظ سے بہت قلابازیاں کھائی ہیں۔ 50 کی دہائی میں لاہور شہر کی سڑکوں پہ خواتین سائیکل چلاتی تھیں اور راہ گیر انھیں گھور گھور کر نہیں دیکھتے تھے۔

بارز اور ڈسکو ہوا کرتے تھے۔ شراب بھی ابھی غیر قانونی مشروب نہیں بنی تھی۔ گھروں میں ڈرائنگ روم بھی تھے، زنان خانے اور مردان خانے علیحدہ بھی ہوتے تھے۔مخلوط محفلیں بھی منعقد ہوتی تھیں اور خالصتاً زنانہ مینا بازار بھی ہوتے تھے۔

شام کو کلب جانا، ٹینس کھیلنا اورتمبولا کھیلنا بہت سے گھروں کا معمول تھا۔ ریڈیو بجانا، گانا سننا، گانا گانا، تاش کھیلنا، لڈو، کیرم اور منوپلی کی بازیاں جمانا عام مشاغل تھے۔ ساڑھی باندھنا صرف ولیمے کی دعوت سے مشروط نہ تھا، بہت سی خواتین کا روز مرہ کا پہناوا بھی ساڑھی ہی تھا۔

آمنہ مفتی کے دیگر کالم

’شریف‘ کون ہوتا ہے!

مریم اور بشریٰ زندہ باد، محبت پائندہ باد!

انسان بنیں مرد نہ بنیں !

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے!

پردے دار خواتین، عام سادہ مصری یا ٹوپی برقعے اوڑھتی تھیں۔

سڑکوں پہ تانگے چلتے تھے اور گھوڑے بے تکلفانہ لید اور موت سے ماحول کو معطر کرتے تھے۔ گو بعد ازاں ان گھوڑوں کا سرکاری حکم کے تحت توبڑے نما پاجامے سے پہنا دیے گئے لیکن اگر کوئی سڑک پہ گر جاتا تھا تو فوری ٹیٹنس کے ٹیکے لگوانے دوڑتا تھا۔ گھروں میں کار چاہے ہو یا نہ ہو، بھینس ضرور ہوتی تھی۔

خواتین کی اکثریت باہر کام نہیں کرتی تھی، جو خواتین گھروں میں رہتی تھیں انھیں کسی طرح کا احساسِ کمتری نہ تھا اور باہر کام کرنے والیوں کو خواہ مخواہ کا احساسِ برتری نہیں کھاتا تھا۔ پنجاب کے سارے دریا بہتے تھے اور راوی میں سیلاب بھی آیا کرتے تھے۔

سڑکوں کے کنارے آم اور جامن کے درخت ہوتے تھے۔ لوگوں میں ایک عجیب سا جذبہِ حب الوطنی پایا جاتا تھا اور اکثر بے وجہ ہی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے لگاتے گلے بٹھا لیتے تھے۔

موٹر سائیکل خال ہی نظر آتے تھے، سکوٹر ہوتے تھے، جن پہ پورا کنبہ سوار ہو کے پھرتا تھا، بعضوں کے ساتھ سائیڈ کار بھی نظر آتی تھی۔ رئیل ازم اور منی ایچر آرٹ پھل پھول رہے تھے۔ ادب اور ادیب زندہ تھےآ ٹی ہاؤس اور شمزا بیکری کی رونقیں ماند نہ پڑی تھیں۔ سچ مچ کے ادیب اور شاعر شہر کی سڑکوں پہ چلتے پھرتے نظر آ جاتے تھے، ان سے بات کی جا سکتی تھی ملا جا سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاہور کے گزرنے والا دریائے راوی میں اب پانی کی آمد بہت کم ہو گئی ہے۔

صوبے خان، برکت علی، بمبے کلاتھ ہاؤس اور ڈینڈی، جامہ زیبی کی پہچان تھے۔ گھروں میں سردی کی آمد اون سلائیوں کی کھٹ کھٹ سے مشروط تھی۔ دستر خوان پہ دو روز گوشت کا ناغہ اور چند گنے چنے کھانوں کے علاوہ چند دعوتی پکوان تھے جن کی تراکیب سینہ بسینہ چلی آ رہی تھیں۔

پھر جیسے کسی جادوئی ہاتھ نے ہمارے سماجی ڈھانچے کی پسلیاں بڑی خاموشی سے گھسیٹ لیں اور ساری عمارت ایک پلپلے ڈھیر کی طرح اپنے ہی قدموں میں گر گئی۔ سائیکل چھوڑ، گاڑی چلانے والی خواتین کو بھی اتنی حیرت سے اور اتنی دیر تک آنکھیں پھاڑ کر دیکھا جاتا ہے کہ بار بار صاف کرنے کے باوجود ونڈ شیلڈ چپچپا جاتی ہے۔

برقعے ارتقائی منازل طے کر کے حجاب اور گاؤن کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور ان سے جھانکتے گول مٹول چہروں اور کاجل سے سجی آنکھوں کو دیکھ کر خواہ مخواہ دیکھتے ہی رہنے کو جی چاہتا ہے۔ درزیوں کا کام اب بھی چل رہا ہے لیکن اصل کام ڈیزائنرز کا ہے جو جب جی چاہتا ہے دامن کو گریبان سے ملا دیتے ہیں اور جب موج میں آ ئیں تو قمیضوں کی جگہ جھبلے پہنو ا کر خوب ہی تماشا بنواتے ہیں۔ کسی عزیز کے ہاتھ مور آ گیا تو کرتوں، پاجاموں، ہاروں بندوں، سب پہ مور چھاپ دیا۔

کسی دوسرے کے ہاتھ طوطے اور پنجرے آئے تو اس نے جوڑے پہ ٹولنٹن مارکیٹ بنا دی۔ کسی نے لہر میں آ کے، باغیچوں کے نقشے بنا دیئے تو کوئی ہرن اور مغلیہ عمارات کی تصاویر بمعہ شہزادیوں کے لے آ یا۔ لاہور میں اون ملنا مفقود ہوئی۔

Image caption لاہور میں پینے کا صاف پانی محض دس برس میں ختم ہو سکتا ہے

اسی لاہور میں جہاں انارکلی میں کسی راہ گیر کے سوئیٹر کا نمونہ دیکھ کے ہماری ایک عزیزہ نے وہیں سے اون سلائیاں خریدیں اور ان صاحب کا تعاقب کرتے کرتے نمونہ اتار لیا، اسی لاہور میں اب کوئی ہاتھ کے بنے سوئیٹر نہیں پہنتا اور کسی کو چشمِ بلبل کا نمونہ ڈالنا نہیں آتا۔

کھانوں کی بہتات ہے، کتنے ہی چینلز دن رات خواتین کو کھانا پکا نا سکھا رہے ہیں، ڈلیوری بوائے بھرر بھررر کرتے، گھر گھر پکے پکائے کھانے پہنچا رہے ہیں، مگر ذائقے مفقود ہیں۔

بھینسیں شہر بدر ہو چکی ہیں، راوی سوکھ چکا ہے۔ گھوڑے اب فقط ریس کورس اور کیولری گراؤنڈ میں نظر آتے ہیں، گدھوں کا تو مذکور ہی کیا، سب ہی جانتے ہیں کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ لاہور کی شاموں میں اب بھی موتیے اور رات کی رانی خوشبو ہوتی ہے، لیکن ایک بات ہم بھولے بیٹھے ہیں، لاہور کا زیرِ زمین پانی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

کوئی وقت جاتا ہے کہ یہاں پانی نہیں ہو گا، سوچیے کہ پانی کے بغیر لاہور کیسا ہو گا؟ سوچیے، اور سوچتے ہی رہیے کیونکہ لاہور میں اب سوچنے والے بھی چشمِ بلبل کے نمونے کی طرح مفقود ہیں۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں