جوہری معاہدہ: امریکہ کا ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور

سعودی عربتصویر کے کاپی رائٹ Handout via Reuters
Image caption امریکی سیکریٹری خارجہ پوم پے او سعودی عرب کے بعد اسرائیل اور اردن کا بھی دورہ کریں گے

امریکہ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر اس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا ہے۔

امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپے او کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کا دورہ کرنے والے امریکی حکام کے مطابق امریکہ سعودی عرب کے خلاف حوثی باغیوں کے حالیہ حملے ایرانی خارجہ پالیسی کے خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ یمن میں حوثیوں کی جانب سے گرائے جانے والے میزائل ایران نے فراہم کیے تھے اور علاقائی طاقتوں کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

سیکریٹری خارجہ پوم پے او سنیچر کو ریاض پہنچے تھے جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے عشائیے میں شرکت کی تھی اور اتوار کو ان کے والد شاہ سلمان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو سے ملاقات کے لیے اسرائیل اور اردن کے حکام کے ساتھ ملاقات کے لیے عمان بھی جائیں گے۔

اس دورے کا مقصد علاقائی اتحادیوں کو ایران کے خلاف مزید پابندیوں کے لیے قائل کرنا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مجوزہ خاتمے کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں!

امریکہ اور فرانس کی ایران کے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے کی تجویز

’صدر ٹرمپ معاہدہ برقرار رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے‘

’ٹرمپ کو ایران جوہری معاہدہ ختم نہیں کرنے دیں گے‘

’ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنا تباہ کن ہوگا‘

خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ 12 مئی کو تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے جس سے سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کا طے پانے والا جوہری معاہدہ ختم ہوسکتا ہے۔

بیشتر عالمی طاقتیں سمجھتی ہیں کہ اس معاہدے کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو روکا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2015 میں ایران اور مغربی ممالک کے مابین جوہری معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی

تاہم صدر ٹرمپ اور امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے بہت کمزور ہے اور اس حوالے سے مستقل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے کا عندیہ دیا تھا اور اس پر دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا تھا کہ ایسا کیسے ہوگا۔

یاد رہے کہ سنہ 2015 میں ایران اور مغربی ممالک کے مابین جوہری معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ چھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے کو ‘دیوانگی’ قرار دیا تھا جبکہ وہ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ 12 مئی کو اس جوہری معاہدے کی توسیع نہیں کریں گے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں