تعلیمی نظام، انٹر امتحانات اور نقل مافیہ

تحریر: نازیہ فہیم

کسی بھی ملک اور قوم کی ترقی و خوشحالی میں  تعلیمی نظام اور نصاب تعلیم کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے تعلیمی نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ پاکستان میں گرتے ہوئے تعلیمی نظام کا  ذمہ دار کون ہے؟ حکومت، اساتذہ یا والدین؟ یہ سوال انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 70 برس ہو چکے ہیں مگر آج تک کسی بھی حکومت نے تعلیمی مسئلے کو حل کرنے اور تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ہمارا تعلیمی نظام بہتر تو نہیں ہو رہا البتہ دن با دن بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ 

پاکستان میں گرتے ہوئے تعلیمی معیار کی ایک اہم ترین وجہ امتحانات میں نقل کا عام ہونا ہے۔ نقل کرنے سے طالب علم امتحان میں کامیاب تو ہو جاتا ہے مگر تعلیم کے حصول میں وہ مکمل ناکام رہتا ہے۔ آج کل انٹر کے امتحان جاری ہیں اور نقل مافیہ بھی سرگرم ہے جو بچوں کو کچھ پیسوں کے عوض نقل کرواتا ہے جس میں امتحانی سینٹر کے بھی بعض افراد ملوث ہوتے ہیں جو بچوں کے مستقبل کو اندھیرے کی طرف دھکیلنے میں برابر کے شریک ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ آج کل والدین خود بچوں کو نقل کرواتے ہیں اور کچھ والدین تو نقل کروانے کے لئے باقاعدہ تعلقات اور پیسوں کا استعمال کرتے ہیں۔ والدین کو اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ جب ایک بچے کو شروع سے ہی نقل کی عادت ہو جائے گی تو وہ مستقبل میں ان طالب علموں کا مقابلہ کیسے کر سکے گا جو بغیر نقل کئے ڈگری حاصل کرتے ہیں۔

سندھ کے امتحانی مراکز کو نقل مافیہ کے رحم و کرم پر چھوڑنے والوں کا احتساب ہونا چاہئے۔ صوبے میں ہونے والے انٹر کے سالانہ امتحانات میں نقل اور غیر قانونی ہتھکنڈوں کے استعمال کو روکنے کے بجائے محکمہ تعلیم کے بہت سے ملازمین نقل مافیہ کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ کہنا بجا ہے کہ محکمہ تعلیم بھی نقل مافیا کے ساتھ مل کر قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے۔ انٹر کے امتحانات پر نقل مافیہ کے مکمل کنٹرول پر صوبائی محکمہ تعلیم کی چشم پوشی کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ 

صوبہ سندھ میں اگر پڑھائی کے معیار کی بات کی جائے تو باقی صوبوں کی نسبت صوبہ سندھ بہت پیچھے ہے۔ بلوچستان بھی تعلیمی معیار میں سندھ سے آگے جا رہا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام تو خراب ہے ہی مگر یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ کاپی کلچر کا ہے جس نے اب ایک ناسور کی صورت اختیار کر لی ہے اور اس ناسور سے چھٹکارا پانا مشکل ہی نہیں تقریبا ناممکن نظر آرہا ہے کیونکہ حکومت غیر سنجیدہ ہے اور یہ بوٹی مافیہ سرکاری ملازمین کی مدد سے ایک گینگ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہر پیپر کے ریٹ مقرر کئے جاتے ہیں ۔ایک پیپر کے دو سے تین ہزار روپے تک لئے جاتے ہیں یہ مافیہ حل شدہ پیپر اس شاگرد کو پہنچاتے ہیں اور اس عمل میں کالج یا اسکول کا پورا اسٹاف ملوث ہوتا ہے۔ یہ مافیہ اتنا طاقتور ہوچکا ہے کہ سوالیہ پیپر تقسیم ہونے سے پہلے ان بوٹی مافیہ تک پہنچ جاتا ہے اور حکومت ان کے آگے بے بس دکھائی دیتی ہے۔

قوم کے معماروں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے والوں کے ہاتھ نہ روکے گئے تو ملک ذہین طلبہ و طالبات سے محروم ہو جائے گا سندھ کے محنتی و ذہین طلبہ و طالبات کے مستقبل کے خلاف بدترین سازشیں ہو رہی ہیں صوبائی محکمہ تعلیم اور متعلقہ امتحانی بورڈ سندھ کے ذہین طلبہ کے مستقبل کو تاریک کرنے کی سازش میں برابر کے شریک ہیں۔ پاکستان میں تعلیم کا معیار ویسے بھی تنزلی کا شکار ہے اگر محکمہ تعلیم نے سنجیدگی سے نقل کو فروغ دینے والوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا تو ایک وقت ایسا آئے گا جب ڈگری تو سب کے پاس ہوگی مگر تعلیم یافتہ افراد ناپید ہونگے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں