انڈیا اور چین کا سرحدی کشیدگی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اور فوجی رابطے بڑھانے پر اتفاق

صدر شی اور وزیراعظم مودیتصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر شی اور وزیراعظم مودی نے چین کے شہر ووہان میں جمعہ کو ملاقات کی

چین اور انڈیا نے اپنی مشترکہ سرحد پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

چین کے شہر ووہان میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات میں سرحدی کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق ہوا۔

غیر رسمی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ان اقدامات کے تحت عسکری اور سکیورٹی رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان تعلقات میں بہتری پر دو روزہ غیر معمولی بات چیت گذشتہ برس متنازع ہمالیہ خطے میں صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

چین ہماری سوچ سے بھی آگے ہے: انڈین آرمی چیف

چینی سڑک نیپال تک پہنچ گئی تو انڈیا کیا کرے گا

چین انڈیا سرحدی تنازع: ’دونوں جانب فوجی تعمیرات میں اضافہ‘

یہ تنازع گذشتہ برس سکّم کی سرحد کے نزدیک بھوٹان کے ڈوکلالم خطے سے شروع ہوا تھا جہاں چینی فوج ایک سڑک تعمیر کرنا چاہتی تھی۔

بھوٹان کا کہنا تھا کہ یہ زمین اس کی ہے۔ انڈین فوجیوں نے بھوٹان کی درخواست پر چینی فوجیوں کو وہاں کام کرنے سے روک دیا۔ چین نے انتہائی سخت لہجے میں انڈیا سے کہا کہ وہ اپنے فوجی، بقول اس کے، چین کے خطے سے واپس بلائے۔

بعد میں دونوں ملکوں میں معاہدے کے بعد انڈین فوج ڈوکلام میں پیچھے ہٹ گئی۔

وزیراعظم مودی صدر نے شی جن پنگ سے اب ملاقات کیوں کی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بات چیت دونوں ممالک کے لیے ہی فائدہ مند ہے

تجزیہ کار شاشنک جوشی نے وضاحت کی کہ کیا وجہ ہے کہ انڈین وزیراعظم مودی اور چینی صدر شی اپنے اپنے دارالحکومت سے دور بغیر اپنی ٹیم کے تعلقات بہتر بنانے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے پاس دراصل کوئی حتمی ایجنڈا نہیں تھا اور بڑھتے ہوئے اختلافات پر بات کرنے کے لیے بھی اچھا خاصا وقت تھا۔

پہلی بات یہ ہے کہ انڈیا سمجھتا ہے کہ گذشتہ برس کا بحران دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک خطرناک موڑ پر لے آیا تھا اور اس طرح کی کشیدگی کو ایک حد تک ہی رہنا چاہیے خاص کر جب ملک میں 2019 میں عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ اس سے زیادہ وسیع تناظر میں یہ بھی ہے کہ چین کی معیشت انڈیا کے مقابلے میں پانچ گنا بڑی ہے اور اس کے دفاعی اخراجات تین گنا زیادہ ہیں۔

جب کہ انڈیا کو سرحد پر مقامی سطح پر تو کئی طرح سے عسکری برتری حاصل ہے لیکن اسے اب بھی اپنی طاقت میں اضافے کے لیے وقت درکار ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

انڈیا ہتھیار خریدنے والا سب سے بڑا ملک، پاکستان میں کمی

انڈیا چین تنازع، اقوام عالم کی دلچسپی

دوسرا یہ کہ انڈیا چاہتا ہے کہ اسے ان معاملات پر چین کا تعاون حاصل ہو جہاں پر چین کا کردار اہمیت کا حامل ہے جیسا کہ دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ ڈالنا اور جوہری تجارت کے سپلائرز گروپ یعنی این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنا۔

حالیہ برسوں میں انڈیا کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ وہ اپنے ابھرنے کی راہ میں چین کو ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرحد پر انڈیا اور چین دونوں نے ہی فوج ایک بڑی تعداد تعینات کی ہوئی ہے

تیسرا پہلو یہ ہے کہ انڈیا عالمی سیاست کے ایک غیر یقینی ماحول میں اپنا ردِ عمل دے رہا ہے۔ انڈیا کو تشویش ہے کہ شمالی کوریا کے بحران کی وجہ سے بیجنگ واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کر لے گا اور اس کے بعد روس کے ساتھ بھی تعلقات میں بہتری لائے گا کیونکہ روس کے مغربی ممالک سے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ انڈیا دونوں جانب دوستی رکھے۔

چین اور روس کے مضبوط ہوتے تعلقات اور امریکہ کے روس سے نمٹنے کے لیے چین پر سے نظریں ہٹانے پر انڈیا کے سابق سفارت کار اور انڈیا کی حکومت کو قومی سلامتی پر مشورہ دینے والی ایک کمیٹی کے رکن پی ایس راگوان کا کہنا ہے کہ انڈیا کے لیے دانشمندانہ طرز عمل یہ ہے کہ وہ چین کے ساتھ مربوط بات چیت کو برقرار رکھے چاہے دونوں بڑی طاقتوں کو یہ ناگوار ہی گذرے۔

اس میں چین کے لیے بھی فائدے کی بات ہے کیونکہ گذشتہ برس دنیا میں انڈیا وہ واحد ملک تھا جس نے ایشیا کو سڑک اور ریل کے ذریعے یورپ سے جوڑنے کے چین کے دنیا کے ایک سب سے بڑے منصوبے کی مخالفت کی تھی۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں