پی ٹی آئی کا گلو بٹ

آج شام سماء کی ٹی وی اسکرین پر وفاقی بجٹ 19-2018 دیکھ رہا تھا اورحسب روایت قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیااورن لیگ حکومت کے چھٹے بجٹ کو مسترد کردیا گیا۔اس دوران پی ٹی آئی کے نوجوان ایم این اے مراد سعید اوروزیر مملکت عابد شیر علی سے جھگڑ پڑے۔مراد سعید کوریمارکس ناگوار گزرے تو وہ ن لیگ کے رکن پرجھپٹے۔ مراد سعید ایسے آپے سے باہر ہوئے کہ پہلے ایم کیو ایم کے سینئر رکن رشید گوڈیل کو دھکا مارا، عارف علوی نے انہیں روکنے کی کوشش تاہم وہ قابو میں نہ آئے، انہیں روکنے کیلئے محمد علی کو بھی سامنے آنا پڑا۔ مراد سعید نےالزام لگایا کہ ن لیگ والے گندے لوگ ہیں، گالیاں دیتے ہیں، یہ پارلیمنٹ میں آتے اسی لئے ہیں۔

اگر آپ کو یاد ہو تو 2017میں بھی کچھ ایسا ہی ملتا جلتا واقعہ پیش آیا جب قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید ور مسلم لیگ (ن) کے جاوید لطیف کے درمیان نازیبا زبان استعمال کرنے پر جھگڑا ہوا۔ اس حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی نے مسلم لیگ (ن) کے جاوید لطیف پر آٹھ دن اور تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید پر دو دن کیلئے قومی اسمبلی میں اجلاس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔

سال 2014ء میں جب ماڈل ٹاؤن کا واقعہ پیش آیا تو اس تو ایک کردار گلو بٹ کے نام سے سامنے آیا جس پر یہ الزام تھا کہ یہ بدمعاش پولیس کا آلہ کار ہے جسے ن لیگ کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ گلو بٹ کا کردارسامنے آنے کے بعد بہت سی سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی نے اسے سیاسی ڈھال بنا کر بہت زیادہ کیش کروانے کی کوشش کی اور 2014 میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنے کے دوران تبدیلی کے نعرے کے ساتھ جو نعر ہ بلند کیا اس میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی کہ جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ اس میں سب کو آزادی رائے کا حق ہے مگر اس کے باوجود ن لیگ میں گلو بٹ جیسے بدمعاش موجود ہیں جنہوں نے سیاست کا نقشہ ہی بدل دیا اور اسی وجہ سے عمران خان کے تبدیلی کے نعرے کو اور زیادہ تقویت ملی۔

عمران خان کا یہ بیانیہ کہ پی ٹی آئی پڑھی لکھی اور نوجوان قیادت پر مشتمل سیاسی جماعت ہے۔ جس میں کوئی گلو بٹ موجود نہیں مگر میں عمران خان سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں ان کی جماعت میں بھی پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے گلو بٹ موجود ہیں ،جو شاید اپنی زبان اور اپنی حرکات و سکنات سے یہ بات واضح کر دینا چاہتے کہ شاید وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں۔ اوراگر میں یہ کہوں کہ مراد سعید بھی کسی طور کسی گلو بٹ سے کم نہیں تو شاید یہ بات کسی طور غلط نہ ہو گئی۔

عمران خان کو بحیثیت چیئرمین اپنے بیانیہ اور اپنے جنون کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ انتخابات کا سال ہے،ایسی جنونیت اورغنڈہ گردی اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کی پارٹی میں بھی متعدد ایسے لوگ موجود ہیں جب وقت آنے پر گلو بٹ بن جاتے ہیں اور قومی اسمبلی جیسے باوقار اور قانون ساز ادارےکی عزت کو مٹی میں مل کر یہ بھول جاتے ہیں کہ بین الاقوامی میڈیا یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد پاکستان کے بارے میں کیسی منفی رائے قائم کرے گا؟۔

احتجاج کرنے اور اپنی بات پہنچانے کا یہ طریقہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں چاہے وہ کوئی بھی جماعت ہو،عزت اور تکریم سب پر لازم ہے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں