آئرلینڈ کے خلاف میچ ہو اور 2007 کا ورلڈ کپ ذہن میں نہ آئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنے برطانوی دورے میں آئرلینڈ کے خلاف بھی ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے والی ہے اور اس ٹیسٹ میچ کی خاص بات یہ ہے کہ ٹیسٹ رکنیت ملنے کے بعد یہ آئرلینڈ کا پہلا ٹیسٹ میچ ہوگا۔

آئرلینڈ کے خلاف میچ ہو تو 2007 کا ورلڈ کپ فوراً ذہن میں آجاتا ہے۔

اگرچہ اس میچ کے بعد پاکستانی ٹیم آئرلینڈ کو پانچ بار ون ڈے میں اور ایک مرتبہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں شکست سے دوچار کرچکی ہے لیکن اس شکست کو ایک تلخ حقیقت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے جس کا سامنا پاکستانی ٹیم کو کرنا پڑا تھا۔

تو کیا آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے 11 سال پہلے کی یہ شکست پاکستانی کھلاڑیوں کے ذہنوں پر اثرانداز تو نہیں ہوگی ؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست ورلڈ کپ کی تاریخ میں پاکستان کے لیے ایک تلخ حقیقت تھی لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم کو آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے اسے یاد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

’یوں بھی اس بات کو 11 سال بیت چکے ہیں اور اب سب کچھ بدل چکا ہے۔ پاکستانی ٹیم میں نئے کھلاڑی ہیں جو نئے جوش اور ولولے کے ساتھ ایک نیا باب رقم کرنے کے لیے اس دورے پر پہنچے ہیں۔‘

تاہم رمیز راجہ کو اس بات کا ضرور احساس ہے کہ آئرلینڈ کے کھلاڑی اپنے ڈریسنگ روم میں گفتگو کے دوران گیارہ سال پہلے کی جیت کو اپنے حوصلے بلند کرنے کے لیے ضرور یاد کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

رمیز راجہ کو بہر حال اس بات کا یقین ہے کہ پاکستانی ٹیم آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ جیتے گی۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم پر یہ دباؤ بھی ضرور موجود ہوگا کہ اگر وہ آئرلینڈ کو نہیں ہراتی تو اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ کے پاس اس وقت ٹیسٹ کے معیار کی ٹیم موجود نہیں ہے وہ محدود اوورز کی کرکٹ کھیلتی آئی ہے لہٰذا پاکستان کو یہ ٹیسٹ میچ جیتنا چاہیے۔

رمیز راجہ کے خیال میں یہ ممکن ہے کہ وہ کرکٹرز جو اپنے ملکوں میں اب متحرک نہیں رہے ہیں وہ دوہری شہریت کے قانون کا فائدہ اٹھاکر مستقبل میں آئرلینڈ کی نمائندگی کرسکتے ہیں۔

سینیئر صحافی قمراحمد آئرلینڈ کو ٹیسٹ رکنیت دیے جانے کے فیصلے کے حق میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ نے گیارہ سال قبل پاکستان کو ہراکر ون ڈے میں اپنی اہمیت میں اضافہ کیا تھا۔

’آئرلینڈ میں کرکٹ کلچر موجود ہے البتہ وہاں انگلینڈ کی طرح فرسٹ کلاس کرکٹ کا مضبوط ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ اس کے کئی کرکٹرز کاؤنٹی کھیلتے ہیں لیکن آئرلینڈ کی کرکٹ بتدریج آگے بڑھ رہی ہے۔‘

قمراحمد کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ کے کھلاڑیوں کو محدود اوورز کی کرکٹ کا زیادہ تجربہ ہے اس کے برعکس پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ کا اچھا خاصا تجربہ حاصل ہے اور اسے اس کا فائدہ حاصل ہوگا۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں