کون کہتا ہے ڈائنا ہیڈن خوبصورت ہیں؟

ڈائنا ہیڈنتصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈائنا ہیڈن نے 21 سال پہلے مس ورلڈ کا خطاب جیتا تھا

کون کہتا ہے کہ ڈائنا ہیڈن خوبصورت ہیں۔ ان کا دلکش حسن آپ کو کتنا بھی بھاتا ہو لیکن انڈیا کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے وزیر اعلیٰ بپلاب دیب کو لگتا ہے کہ انہیں مس ورلڈ کا خطاب دینے والوں نے میچ فکسنگ کی تھی!

اگر وزیراعلیٰ کا نام کچھ سنا سنا سا لگ رہا ہو تو حیرت کی کوئی بات نہیں، چند روز پہلے بھی وہ سرخیوں میں تھے، اس وقت اپنے اس دعوے کے لیے کہ انٹرنیٹ کی ایجاد ہزاروں سال پہلے انڈیا میں ہوئی تھی اور ملک میں تب بھی لائیو براڈکاسٹنگ عام تھی۔

اس مرتبہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی پر نہیں بیوٹی اور فیشن انڈسٹری پر گیان بانٹ رہے ہیں۔ اور ان کی معلومات کہ بس، سننے کے بعد ہی سمجھ میں آتا ہے کہ انہیں کیوں وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے۔

ڈائنا ہیڈن نے 21 سال پہلے مس ورلڈ کا خطاب جیتا تھا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ’ہم نے لگاتار پانچ سال مس ورلڈ یا مس یونیورس کا خطاب جیتا، جس نے بھی مقابلے میں حصہ لیا جیت گیا، ڈائنا ہیڈن بھی جیت گئیں۔۔۔ آپ کے خیال میں کیا انہیں جیتنا چاہیے تھا؟‘

سر، اس سوال کا جواب ہم کیا دیں۔ بات ذرا پرانی ہوگئی ہے اور حسن کے یہ پیمانے اپنی سمجھ سے باہر ہیں۔

بپلاب دیب کو ایشوریہ رائے پسند ہیں جو ان کے مطابق ’ہندوستانی خواتین کی صحیح معنوں میں نمائندگی کرتی ہیں!‘

انہیں کون بتائے کہ ڈائنا ہیڈن بھی بہت حسین ہیں اور ایشوریہ رائے بھی۔ بس پسند اپنی اپنی، خیال اپنا اپنا۔

بپلاب دیب کو لگتا ہے کہ حسن کے یہ مقابلے فرضی ہوتے ہیں اور منتظمین پہلے سے ہی یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ خطاب سے کس کو نوازنا ہے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایشوریہ رائے نے جس سال مِس ورلڈ کا خطاب جیتا تھا، اس مقابلے کے نتائج بھی فکسڈ تھے یانہیں۔

قدیم ہندوستان میں عورتیں کس طرح سجتی سنورتی تھیں، بپلاب دیب اس کے بھی ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پرانے زمانے میں ہندوستانی خواتین میک اپ کا سامان استعمال نہیں کرتی تھیں۔ نہ اس زمانے میں شیمپو استعمال کیا جاتا تھا، بس لوگ میتھی کے پانی اور مٹی سے نہاتے تھے۔۔۔ یہ سب حسن کے ان مقابلے کی ہی دین ہے۔۔۔آج ملک کے ہر کونے میں بیوٹی پارلر ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption وزیر اعظم نریندر مودی نے چند روز قبل ہی پارٹی کے رہنماؤں کو ہدایت دی تھی کہ وہ سوچ سمجھ کر بولیں اور کوئی بے تکی یا غیر ضروری بات کرکے میڈیا کو ‘مصالحہ’ فراہم نے کریں

اس زمانے میں شیمپو اور لپ سٹک بنانے والی کمپنیاں تو نقصان میں ہی چلتی ہوں گی۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ریسرچ کے بغیر ہی شیمپو اور لپ سٹک وغیر لانچ کر دی ہوں۔۔۔ انٹرنیٹ تو اس وقت تھا ہی، اگر ہندوستانی خواتین کی پسند نا پسند کے بارے میں تھوڑی ریسرچ کر لیتے یا ٹی وی پر ساس بہو کے سیرئیل دیکھ لیتے تو انہیں اندازہ ہوجاتا کہ اس مارکیٹ میں دال نہیں گلنے والی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے چند روز قبل ہی پارٹی کے رہنماؤں کو ہدایت دی تھی کہ وہ سوچ سمجھ کر بولیں اور کوئی بے تکی یا غیر ضروری بات کرکے میڈیا کو ’مصالحہ‘ فراہم نے کریں۔

لیکن یہ پیغام وزیراعظم نے اپنی ’ایپ‘ کے ذریعہ دیا تھا اور ہوسکتا ہےکہ تریپورہ میں انٹرنیٹ کی سپیڈ سست ہو اس لیے وزیر اعلیٰ ابھی سن نہ پائے ہوں۔

بپلاب دیب کی خوبی یہ ہے کہ جو ان کے دل میں ہوتا ہے وہ بول دیتے ہیں۔ یا کم سے کم وزیر اعلیٰ بننے کے بعد تو ایسا ہی کر رہے ہیں۔ یہ بھی صاف شفاف سیاست کی ایک مثال ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ ’ہم عورتوں کو (دیویوں) لکشمی اور سرسوتی کی طرح دیکھتے ہیں۔۔۔ایشوریہ رائے ہندوسانی خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں۔۔۔ وہ مس ورلڈ بنیں یہ تو ٹھیک ہے لیکن ڈائنا ہیڈن کا حسن میری سمجھ میں نہیں آتا!”

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔ انگریزی میں کہاوت ہے کہ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھوں میں ہوتی ہے، اب دونوں میں سے کون زیادہ خوبصورت ہے اس کے لیے ملک گیر سروے یا ریفرینڈم کروانا تو اتنی جلدی ممکن نہیں، لیکن انٹرنیٹ کی مدد سے چلنے والی مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے کچھ لوگوں کی رائے کا اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے۔

اور کچھ لوگوں کی رائے سے لگتا ہے کہ خوبصورتی صرف دیکھنے والے کی آنکھ میں ہی نہیں ہوتی، نام میں بھی ہوتی ہے۔

انڈین ایکسپریس کی ایک ایڈیٹر نے لکھا ہے کہ ڈئر بپلاب، میرا نام لز میتھیو ہے اور میرا تعلق کیرالہ سے ہے، کیا میں خود کو ہندوستانی کہہ سکتی ہوں؟ کیا میں اپنے دیش کی نمائندگی کر سکتی ہوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سدھارتھ پتنی نے لکھا ہےکہ بپلاب دیب کو سیاست چھوڑ کر گوسپ کالم لکھنا شروع کردینا چاہیے۔

تریشا شیٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب کیا عورتوں کے حسن کا تجزیہ کرنے کے علاوہ تریپورہ میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جو آپ کی توجہ کا طلب گار ہو؟

صحافی شو ارور کا کہنا ہے کہ کوئی وزیر اعلی کو بتائے کہ انہیں ریاست کی حکومت بھی چلانی ہے۔

اب ان لوگوں کو کون سمجھائے کہ یہ ملٹی ٹاسکنگ کا زمانہ ہے، وزیر اعلیٰ نے سائنس، ٹیکنالوجی اور انٹرٹینمنٹ کاقلمدان اپنے پاس ہی رکھا ہے!

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں