یہ بجٹ نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے جمع تفریق کی مشق ہے: نعیم الحق

کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نعیم الحق نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے آج قومی اسمبلی میں جو پیش کیا گیا وہ بجٹ نہیں بلکہ جمع تفریق کی مشق ہے، موجودہ حکومت اس سال بھی نوٹ چھاپ کر اخراجات پورے کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں انٹرویو دیتے ہوئے کیا، نعیم الحق کا کہنا تھا کہ بجٹ میں حقائق صحیح طریقے سے بیان نہیں کیے گئے، وفاقی بجٹ میں 2 ہزار ارب روپے کا خسارہ رکھا گیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس سال بھی نوٹ چھاپ کر اخراجات پورے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی شرح نمو کو بڑھانے کے لیے کوئی بھی خاص اقدامات نہیں کیے گئے، بجٹ میں 30 جون تک کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، اور ہمیشہ بجٹ کے پیچھے اقتصادی پالیسیاں ہی اصل چیز ہوتی ہے۔

مالی سال19-2018 کے لیے وفاقی حکومت نے 59.32 کھرب کا بجٹ پیش کردیا

رہنما پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کالے دھن کو سفید بنانے کی قانونی کوشش کررہی ہے، وزیر خزانہ کو نظر انداز کر کے کراچی کے بزنس مین سے بجٹ پیش کروایا گیا، اگر پی ٹی آئی کو حکومت ملی تو بجٹ پر نظرثانی کر کے اسے تبدلی کریں گے۔

سراج الحق نے شروع ہی سے ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپا: نعیم الحق

خیال رہے کہ آج مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنا آخری بجٹ پیش کردیا، بجٹ کا حجم 59 کھرب 32 ارب جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4435 ارب روپے مختص کیا گیا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، دفاع کے لیے 1100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں