تاریخی کوریائی مذاکرات کے پیچیدہ تماشے

کوریا
Image caption ملاقات کے کمرے کی آرائش میں ہر چیز علامتی طور پر استعمال کی گئی

شمالی اور جنوبی کوریائی رہنماؤں کی ملاقات کا انعقاد بہت محتاط انداز میں کیا گیا جس میں کئی پیچدہ نظارے دیکھنے کو ملے۔

کھانے سے لے کر پھولوں تک، میز کے قطر سے لے کر صنوبر کا درخت لگانے تک اس ملاقات کا لگ بھگ ہر پہلو ہی رزمیت سے بھرپور تھا۔

اس ملاقات کا انعقاد کرنے والی کمیٹی کا کہنا تھا کہ ان تمام چیزوں کا انتخاب ’جزیرہ نما کوریا میں امن کی آمد اور تعاون اور استحکام کے دور کے آعاز کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا۔‘

اسی بارے میں

’جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عزم‘

جزیرہ نما کوریا میں ’امن کے لیے نئے دور کا آغاز‘

ملاقات کا مقام

یہ ملاقات غیر عسکری علاقے میں موجود ’پنمون جوم‘ نام گاؤں میں ہوئی۔ یہ خود ایک علامتی چیز تھی۔

اس سے پہلے کی ملاقاتوں میں جنوبی کوریائی سیاسی رہنما پیانگ یانگ جاتے رہے جو شمالی کوریا کا دارالحکومت ہے۔

Kim Jong-un and Moon Jae-inتصویر کے کاپی رائٹ EPA

اس مرتبہ دونوں طرف کے رہنما فوجی حد بندی کے مقام پر ملے اور اس کے بعد پیس ہاؤس میں مذاکرات کے لیے گے۔

Kim Jong-un and Moon Jae-inتصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کم جونگ اُن اور موم جائے اِن کی تاریخی ملاقات

یہ مقام سرحد کے جنوب میں ہے اور مرتبہ شمالی کوریا کے رہنما پہلی مرتبہ اس حد کے اُس پار گئے۔

جنوبی کوریا کے سلامی دینے والے دستے نے وردی کے بجائے روایتی رنگ برنگے لباس پہن رکھے تھے اور دونوں رہنماؤں کے راستے کے اطراف کھڑے تھے۔

پھول

آرائش کے لیے ملاقات کے کمرے میں روایتی گلدان میں سفید پھول رکھے گئے۔

لیکن یہ کوئی سے بھی پھول نہیں تھے بلکہ ان میں ’خوشی کے اظہار کے لیے عود الصلیب، ڈیزی یعنی گلِ بہار امن کے اظہار کے لیے اور غیر عسکری خطے سے چنے گئے چند جنگلی پھول تھے۔ ‘

میز

دونوں رہنما 2018 ملی میٹر چوڑے ایک بیضوی میز پر بیٹھے۔ میز کا یہ قطر اس ملاقات کے سال کی نمائندگی کے لیے تھا۔

Kim Jong-un and Moon Jae-in at the summit tableتصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میز، پھول اور کرسیاں بھی خاص تھیں

کرسیاں بھی خصوصی طور پر بنائی گئی تھیں اور اس ملاقات میں جاپان پر بھی چوٹ کی گئی۔

پورے جزیرہ نما کوریا کے نقشے میں متنازع ڈوکوو جزائر بھی دکھائے گئے جن پر سیول کا اختیار ہے تاہم ٹوکیو بھی ان کا دعوے دار ہے۔ دونوں کوریا جاپان کے لیے ناپسندیدگی کے معاملے میں متحدہ ہیں۔

تزیین و آرائش

ملاقات کے کمرے میں یہ علامتی اظہار میز اور کرسیوں تک محدود نہیں رہا۔

Chair and painting in summit roomتصویر کے کاپی رائٹ South Korean government
White space

یہ کمرہ اپنی آرائش سے روایتی کورین ہینک گھر کی طرح محسوس ہو رہا تھا جس میں کاغذ سے بنی لکڑی کی کھڑکیاں تھیں۔

کمرے میں بچھا نیلا قالین کوریا کے پہاڑوں اور جھرنوں کا عکاس تھا۔

کمرے میں شمالی کوریا کی کم گانگ نامی پہاڑ کی بڑی سی تصویر آویزاں تھی۔ جنوبی کوریا کی حکومت کے ترجمان کے مطابق یہ وہ پہاڑ ہے جس پر کئی کوریائی جانا چاہتے ہیں۔

ان کے بقول ’کم گانگ کا پہاڑ جنوبی اور شمالی کوریا صلح اور تعاون کی علامت ہے۔‘

A photo from North Korea's state news agency showing Kim Jong-un atop Mount Paektuتصویر کے کاپی رائٹ KCNA
Image caption شجر کاری کے لیے شمالی کوریا کے پہاڑ پائکتو سے مٹی لائی گئی

صنوبر کا درخت

سہ پہر میں ایک علامتی درخت لگایا گیا۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنست اے ایف پی کے مطابق یہ درخت 1953 میں لگایا گیا تھا جب کوریائی جنگ کے بعد صلح نامہ ہوا۔

Kim Jong-un and Moon Jae-in plant a treeتصویر کے کاپی رائٹ AFP

دونوں رہنماؤں نے علامتی طور پر بیلچوں کی مدد سے دونوں ممالک شمالی اور جنوبی کوریا سے لائی گئی مٹی میں یہ درخت لگایا۔

اس کے بعد اس درخت کو دونوں ملکوں سے لایا ہوا پانی دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی ایک تختی لگائی گئی جس پر لکھا گیا ’امن اور استحکام کی کاشتکاری‘

کھانا

وفود کو پیش کیا جانے والا کھانا بھی علامتی چیزوں سے بھرپور ہے جس کا ہر نوالہ بامعنی ہے۔

ان کھانوں میں شمالی اور جنوبی کوریا کے خطوں کے پکوانوں کے ساتھ ساتھ دونوں رہنماؤں کے آبائی علاقوں اور غیر عسکری خطے کے خاص کھانے شامل کیے گئے۔

Mango dessert with a map of the Korean peninsula to be served at the Inter Korean Summit is shown in Seoul, South Korea, 25 April 2018تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ساری علامات کوریا سے متعلق ہی نہیں تھی بلکہ یہ چھوٹے دو نقطے جاپان کے لیے تھے

ان میں شمالی کوریا کے مقبول ٹھنڈے نوڈلز، سوئس پوٹیٹو روسٹی کیونکہ کم جونگ اُن نے اپنی جوانی سوئٹزر لینڈ میں گزاری، مون جائے اِن کے آبائی علاقے کا سی فوڈ اور روایتی بیبیم باب نامی چاولوں سے بنا پکوان جسے غیر عسکری خطے میں اگائی کی سبزیوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔

اس کے علاوہ پیش کیا جانے والا ایک میٹھا بھی خاص ہے اور اس میں بھی متنازع جزائر دکھائے گئے ہیں۔ اس علامتی اظہار کو ٹوکیو میں بھی خاص توجہ سے دیکھا گیا۔

جاپان کی وزراتِ خارجہ نے اس مینگو موز پر شدید احتجاج کیا ہے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں