سندھ کے تعلیمی بورڈز کا امتحانی نظام داؤ پر، ڈگریاں مشکوک

  • 53 Views
  • April 27, 2018 12:01 pm PST
pag1-image

سندھ بورڈز کا امتحانی عملہ پرچوں کے دوران طلباء کو نقل سے روکنے میں بُری طرح ناکام ہوچکا ہے۔

کراچی

صوبہ سندھ کے تعلیمی بورڈز کے تحت انٹرمیڈیٹ کے امتحانات جاری ہیں تاہم ان امتحانات کے دوران امتحانی مراکز سے کھلے عام نقل اور بوٹی کلچر نے سندھ کے امتحانی نظام کو مشکوک کر دیا ہے جبکہ اس امتحان کے تحت ڈگریاں لینے والے طلباء کا مستقبل بھی داؤ پر ہے۔

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت انٹر کے تیسرے روز بھی امتحان شروع ہونے سے قبل پرچہ واٹس ایپ کے ذریعے آؤٹ ہوگیا، بورڈ حکام پرچہ آؤٹ ہونے کے معاملے میں بے بس ہوگئے ہیں کیوں کہ امتحانی مراکز پر نہ صرف نقل ہو رہی ہے بلکہ موبائل فون کا بھی آزادانہ استعمال کیا جارہا ہے۔

تیسرے روز باریویں جماعت شماریات کا پرچہ سوشل میڈیا پر آگیا، بورڈ انتطامیہ پہلے ہی میڈیا پر امتحانی مراکز کے دورے پر پابندی لگادی ہے جس کی وجہ سے نقل کرنے والے افراد اور دوسروں کی جگہ امتحان دینے والے افراد کی چاندی ہوگئی ہے، تاحال ایک لڑکا بھی نقل کرتے ہوئے پکڑا نہیں جاسکا ہے۔

ادھر محکمہ کالج ایجوکیشن اور محکمہ بوردز و جامعات کے درمیان رابطے کا فقدان کے باعث مرکزی سطح پر کوئی ویجلینس ٹیم تشکیل نہیں دی جاسکی ہے، محکمہ بورد و جامعات جس کے ماتحت تعلیمی بورڈز آتے ہیں اسے امتحانات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

محکمہ بورڈ و جامعات کا کوئی افسر کسی امتحانی مرکز کا دورہ نہیں کرتا ہے واضح رہے کہ جب بورڈز گورنر کے ماتحت تھے تو گورنر ہاوس کی جانب سے ویجلینس ٹیمیں تشکیل دی جاتی تھیں جو میڈیا کے ساتھ اچانک امتحانی مراکز کا دورہ کر کے نقل کرتے ہوئے امیدواروں کو پکڑا کرتی تھیں اس وقت روزانہ درجنوں امیدوار پکڑے جاتے تھے۔

دوسری جانب ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ سکھر کے زیر اہتمام انٹر میڈیٹ کے جاری امتحانات میں گیارہویں جماعت کے ریاضی اورباٹنی مضامین میں چیئرمین تعلیمی بورڈ سید مجتبیٰ شاہ کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ٹیموں نے سکھر، خیرپور، گھوٹکی اور نوشہروفیروز اضلاع کے مختلف امتحانی مراکز میں کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طو رپر 138 امیدواروں کو پکڑ کر ان کے خلاف کاپی کیس بنائے۔

تعلیمی بورڈ حیدرآباد کے زیر اہتمام ڈویژن کے 10 اضلاع میں گیارہویں جماعت کے انگریزی کے پرچے لئے گئے‘ پرچے کے دوران نقل عروج پر رہی۔

تفصیلات کے مطابق ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ حیدرآباد کے تحت جمعرات کے روز گیارہویں جماعت کے انگریزی اور جنرل ہسٹری کے پرچے امتحانات کے دوران نقل جاری رہی۔

سندھ کے طلباء نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانی مراکز میں نقل کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور انتظامی افسران کو سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔


This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں