انڈیا: مسجد کی تعمیر میں سکھ اور ہندو مددگار

مزدور
Image caption موم کے رہائشی زیادہ تر مسلمان زیادہ خوشحال نہیں

انڈیا کے مذہبی گروہوں میں اکثر جھگڑے ہوتے ہیں، حالیہ برسوں میں تشدد کے کئی وقعات پیش آ چکے ہیں لیکن یہیں ایک گاؤں ایسا بھی ہے جہاں اس معاملے میں بھائی چارے کا انوکھا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

پنجاب کے ایک گاؤں میں شیوا مندر کی تعمیر کے دوران مستری ناظم راجہ کو ایک خیال ستاتا رہا کہ وہ ایک مسلمان ہے اور ایک ہندو مندر تعمیر کر رہا ہے لیکن پھر بھی قریب میں کوئی مسجد نہیں جہاں وہ اپنی عبادت کر سکے۔

’ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے جہاں ہم اپنی نماز ادا کر سکیں۔‘ 40 سالہ ناظم کا کہنا ہے کہ ’یہاں آنے والے ہمارے رشتہ داروں کے لیے بھی یہ کچھ اچھا نہیں تھا۔‘

اس بات نے انھیں کافی پریشان کیا تو انھوں نے موم نامی گاؤں کے 400 مسلمانوں سے اس بارے میں بات کی لیکن وہ اتنے غریب تھے کہ زمین نہیں خرید سکتے تھے۔

بی بی سی کراسنگ ڈیوائڈز سیزن

’کم عمر قاتل اب ہپ ہاپ پر یکجا‘

یورپ میں دراڑیں پہلے سے زیادہ گہری

’کیا آپ ہمیں کچھ زمین دیں گے؟‘

اس علاقے کے زیادہ تر مسلمان زیادہ خوشحال نہیں جبکہ ان کے مقابلے میں وہاں کے 400 یا اس سے زیادہ ہندو اور تقریباً 4000 سکھوں کے حالات کافی بہتر ہیں۔

18 ماہ تک تیزی سے کام کے بعد جب مندر مکمل ہونے کے قریب پہنچا تو راجا نے ایک غیرمعمولی قدم اٹھایا۔

رواں سال انھوں نے مندر کی انتظامیہ سے بات کی اور انھیں بتایا: ’آپ ہندوؤں کے پاس جلد ہی آپ کا نیا مندر ہوگا، اور آپ کے پاس پہلے ہی ایک پرانا مندر بھی ہے، لیکن ہم مسلمانوں کے پاس عبادت کی کوئی جگہ نہیں، نہ پیسے ہیں اور نہ ہی زمین۔ کیا آپ ہمیں اپنی زمین کا چھوٹا سا حصہ دیں گے؟‘

ایک ہفتہ بعد ہی انھیں اس کا جواب مل گیا۔ مندر کی انتظامیہ نے مندر کے ساتھ ہی واقع 900 مربع فٹ زمین کا ٹکڑا انھیں دینے کا فیصلہ کیا۔

Image caption مندر کی انتظامیہ نے 900 مربع فٹ زمین کا ٹکڑا مسلمانوں کو دینے کا فیصلہ کیا

راجا کا کہنا ہے کہ ’میں انتہائی خوش ہوا،، میرے پاس شکر گزاری کے لیے الفاظ نہیں تھے۔‘

پرشوتم لال ایورویدک طبیب ہیں جو مندر کے انتظامی پینل میں شامل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک صحیح مطالبہ تھا۔ یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں کہ ہم اپنی خوشیاں اور غم تو ایک ساتھ منائیں لیکن (مسلمانوں) کے پاس اپنی مسجد نہیں۔‘

دو ماہ سے راجا اور چند دیگر کاریگر اور مزدور خوشی سے ایسی جگہ تعمیر کر رہے ہیں جہاں مسلمان عبادت کر سکیں۔

سکھ برادری جن کے گوردوارے کی دیوار اس مسجد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اس کی تعمیر کے لیے فنڈز میں حصہ ڈال رہی ہے۔ یہ تین مذاہب کے درمیان ایک مثال ہے اور وہ بھی ایسے علاقے میں جہاں اقلیتیں اکثر حقوق نہ ملنے کی شکایت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

مجبوریاں

حالیہ دونوں میں انسانی حقوق کے گروپ حکومت پر تنقید کر رہے ہیں جسے وہ انتہائی دائیں بازو کی ہندو قوم پرست حکومت کہتے ہیں۔ بہت سوں کا کہنا ہے کہ اس نے ہندوؤں اور مسلمان کے درمیان بے یقینی اور خوف کی فضا قائم کر دی ہے۔

لیکن موم میں ایسا لگتا ہے کہ تینوں مذاہب کے لوگ ایک خوشگوار ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں کسی قسم کے جھگڑے کی کوئی تاریخ نہیں ملتی اور تمام برادریوں کے لوگ آزادانہ طور پر کسی بھی عبادت گاہ جا سکتے ہیں۔

Image caption موم میں 4000 سکھ،400 ہندو اور 400 مسلمان آباد ہیں

بہت سے ہندو گورودوارہ جاتے ہیں اور بعض اوقات پگڑیاں بھی پہنتے ہیں جو عام طور سکھ پہنا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ رسومات اور تقریبات میں شرکت کے لیے دوسری برادری کے لوگوں کے گھر بھی جاتے ہیں۔

گورودوارہ کی مذہبی شخصیت گیانی سرجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کی گیتا پاٹھ جیسی تقریبات سکھوں کے ہال میں منعقد کی جاتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’لوگ اسے صرف گورودوارہ ہی نہیں سمجھتے بلکہ سماجی تقریبات کے لیے اکھٹے ہونے کی جگہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

مندر کے انتظامی امور میں سرگرم اور استاد بھرت رام کا کہنا ہے: ’ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس ایسے سیاسی رہنما نہیں ہیں جو ہمیں تقسیم کریں یا برادریوں میں تقسیم پیدا کریں۔‘

’اس گاؤں کے لوگوں میں وہی بھائی چارہ ہے جو قدیم وقتوں میں ہوا کرتا تھا اور اسی وجہ سے ہم نے مسجد کے لیے زمین دینے کا فیصلہ فوراً ہی کر لیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا اور پاکستان کے لوگوں میں نفرتیں نہ ہوں اگر سیاستدانوں میں نہ ہوں۔‘

Image caption راجہ اپنے دوست بھرت کے ہمراہ

ان کا کہنا ہے کہ ’فنڈز یا عطیات دینے سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بہت سے ہندو اور سکھوں کے خیال میں مسجد صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہوگی، یہ تمام گاؤں والوں کے لیے ہے۔‘

اس سب کے باوجود اس بھائی چارے کی کچھ حدود ہیں۔ اگر آپ ان سے کہیں کہ کیا وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ایک دورسرے کی برادریوں میں شادی کرنے دیں گے تو ان کا ردعمل کافی حیران کن ہوتا ہے۔

سکھ پنچائت کے رکن چُود سنگھ اس بارے میں کہتے ہیں: ’دیکھیے بھائی چارہ ایک الگ چیز ہے۔ سکھ اور مسلمان الگ الگ مذاہب ہیں، ایسی کوئی بھی چیز ہمارے گاؤں میں قابل قبول نہیں ہوگی۔‘

بھرت شرما ان سے اتفاق کرتے ہیں: ’ایسے کبھی بھی نہ تو ماضی میں ہوا ہے اور نہ مستقبل میں ہو گا۔‘

انڈیا میں یہ عام بات ہے، یہاں تک کے ہندوؤں میں بھی کئی مختلف ذاتوں میں شادیوں کی مخالفت کی جاتی ہے۔

تاہم انڈیا کے مغربی بینگال جہاں فرقہ وارانہ کشیدگی بہت زیادہ ہے کے مقابلے میں پنجاب کا یہ گاؤں جنت سے کم نہیں۔

بھرت شرما کا کہنا ہے کہ ’خدا ہر جگہ ہے، اب چاہے وہ گورودوارہ ہو، مسجد یا مندر۔‘


This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں