سندھ اسمبلی کے باہر وکلاءکا احتجاج،30سے زائد زیرحراست

کراچی : سندھ پولیس نے صوبائی اسمبلی کے باہر دھرنا دینے والے تیس سے زائد وکلاء کو حراست میں لے لیا۔

پولیس نے صبح سویرے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دینے والے تیس سے زائد وکلاء کو حراست میں لے لیا۔ وکلاء نو روز سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے تھے۔

وکلاء کی جانب سے تنخواہ اور تھری بیسک الاؤنس اور سات سال سے ترقیاں نہ ملنے پر دھرنا دیا گیا تھا، جب کہ نیو ٹیچرز ایکشن کمیٹی نے 2012ء سے تنخواہیں نہ ملنے پر سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے رکھا تھا۔ دونوں احتجاج کے باعث آرٹس کونسل سے سندھ سیکریٹریٹ جانے والی سڑک پرٹریفک کی روانی متاثر ہورہی تھی۔

پولیس ایکشن کے بعد سرکری وکلاء کے نو روز سے جاری دھرنے کو ختم کر کے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے، جب کہ اسمبلی کے مرکزی دروازے کو کلیئر کردیا گیا۔ پولیس کے مطابق تیس سے زائد وکلاء کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف تھانہ آرام باغ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ٹریفک اہل کاروں کے مطابق پولیس کریک ڈاؤن کے بعد متعلقہ علاقے میں سڑکیں کلیر اور ٹریفک کی روانی میں بھی فرق آیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل حکومتی عہدے داروں کی جانب سے وکلاء کلرک ،لاء ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کو طالبات کی منظوری کی یقین دھانی کروائی گئی تھی۔

سرکاری وکلا کی جانب سے سندھ اسمبلی پر جاری دھرنے سے سٹی کورٹ میں واقع سرکاری وکلا کے دفاتر پر تالے لگ گئے،جس سے سٹی کورٹ کے مختلف اضلاع میں زیر سماعت مقدمات بھی متاثر ہونے لگے۔ سرکاری وکلا اور پراسیکیوشن کے عملے کی جاری ہڑتال سے سٹی کورٹ میں زیر سماعت ہزاروں مقدمات میں گواہوں کے نہ بیانات ریکارڈ ہوسکے اور نہ ہی مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع ہوسکے۔

ہڑتال کے باعث سٹی کورٹ آنے والے ہزاروں سائیلین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔سرکاری وکلا تھری بیسک الاوئنس اور7 سال سے ترقیاں نہ ملنے پر احتجاج کررہے تھے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں