تہذیب کے کھوج میں

نو برس قبل پشاور سے اپنا رخت سفر باندھ کر جب بڑے لوگوں کے اس شہر(اسلام آباد) آیا تو سوچا کہ مہذب لوگوں کاشہر ہے، ملک کا دارالحکومت ہے، یہاں امن ہوگا، شانتی ہوگی، تہذیب کا دور دورہ ہوگا۔ کچھ عرصہ رہیں گے تو چلیں پورے نہ سہی کسی حد تک یہاں کے رنگ میں تو رنگ جائیں گے۔ شہری بابوکا لبادہ اوڑھ لیں گے تو دیہاتی پن اور’’پینڈو پن‘‘ سے خود بخود چھٹکارا پالیں گے۔ مگر یہاں کچھ ہی دن رہا تو پورا نشہ کافور ہوگیا اور یہ شعر سچ دکھائی دیا۔۔؎

شہر کی دھوپ میں نہ چھاؤں میں

وہ سکوں جو ہے میرے گاؤں میں

یہ تو صرف ایک جھلک تھی پوری فلم گزشتہ نو سال سے قسط وار دیکھ رہا ہوں، عجیب چہرے، عجیب تیور۔۔ مفادات کے اس شہر میں یا پھر یوں سمجھیں تیزاب کی اس نہر میں مسلسل غوطہ زن ہوں۔ سرکار کی اس بستی میں زندگی کبھی ہنستی ہے، مسکراتی ہے، اٹھلاتی ہے ، اتراتی ہے، ناز نخرے دکھاتی ہے اور کبھی کبھی اپنی بے بسی پراشک بہاتی ہے۔۔۔ مگر پھر بھی رواں دواں ہےاور مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ یہاں مختلف ڈگر پر مختلف لوگ ملتے ہیں، جنہیں ہم اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں۔ مگر شام کے سیاہ سائے جب ڈھلتے ہیں تو منظر بدلتےہیں اور اگلے دن کا سورج ایک بار پھر اجنبی کرنوں کے ساتھ طلوع ہوجاتا ہے۔

بحرحال ملک کے ’’کیپیٹل‘‘ میں ’’ کیپیٹل‘‘ کے پیچھے دوڑتے لوگوں سے کیا شکوہ کرنا کہ یہاں کی آب و ہوا ہی ایسی ہے۔ لیکن ایک مسئلہ جسے میں گزشتہ نو برس سے بہت شدت کے ساتھ محسوس کررہا ہوں وہ ہے ذہنی اذیت۔ یہاں آپ کو جو بھی بندہ ملے گا کسی نہ کسی کوفت یا پھر اذیت میں مبتلا ملے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے دیگر شہر بھی کوئی شانتی نگر نہیں ، وہاں بھی مسئلے مسائل زیادہ ہیں مگر ملکی دارالحکومت میں زندگی کو یوں بے چین دیکھنا فکر والی بات ہے۔

کسی ملک میں اخلاقیات کا اندازہ لگانا ہو تو وہاں کے دارالحکومت کے باسیوں کے رویوں کو پرکھ لیں،پھر بھی سمجھنا دشوار ہو تووہاں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں یا پھر اوباشوں کی طرح سڑک کنارے کھڑے ہوکر ان کی گفتگو میں شائستگی کا اندازہ لگالیں۔

سنا ہے اور کتابوں میں پڑھا ہے کہ مہذب لوگ جب بولیں تو باتوں سے خوشبو آئے،مسکرائیں تو اجڑے گلستاں میں بھی کلیاں چٹک جائیں مگر اس شہر میں تو معاملہ بالکل الٹ ہے۔ یہاں کسی سے ایڈریس دوبار پوچھ لیں ، ریسپانس ایسا آئے گا کہ چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔

راولپنڈی اسلام آباد کی سڑکوں پرروزانہ لاکھوں موٹرسائیکل اورگاڑیاں بھاگتی دوڑتی ہیں، ان میں سوار افراد کی منزل الگ مگرسب میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے جلد بازی۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی اس دوڑ میں رفتار زرا سی بھی کم پڑتی ہے تو سائرن اور ہارن سے زمین و آسمان گونجنے لگتے ہیں۔

ان چیختی چنگھاڑتی آوازوں اور اس قیامت خیز شور سے اگر قریبی رہائشی علاقوں میں کسی کے آرام میں خلل پڑے یا کوئی مریض بلبلائے، شہربے مثال کے ان بے مثال باسیوں کو اس سے کیا لینا دینا؟ انہیں تو جلدی پہنچنا ہے، کسی کو تکلیف ہے تو جائے بھاڑ میں۔

طبی ماہرین کے مطابق اس بے ہنگم شور سے ہماری صلاحیتیں تو متاثرہوتی ہیں ساتھ ہی ہمارے اعصاب پر بھی خطرناک اثرات ڈالتا ہے۔ مہذب دنیا میں جدید سسٹم کے تحت صوتی آلودگی پرقابو پانے کی کوششیں ہورہی ہیں ۔ وہاں سائرن بجانا تو بڑی بات کسی سے تیز آواز میں بات کرنا بھی ناقابل معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ایشیائی ممالک کی تو اس حوالے سے بات ہی نرالی ہے۔

گھر سے نکل کر اسکول جانے والے بچے ہوں، دفترجانے والے بڑے یا پھرضعیف العمر بزرگ، یہ شور ان کیلئے چارو ناچار برداشت کرنا پڑتا ہے۔ شورکوڈیسی بل پیمانے سے ماپا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق 20 ڈیسی بل آواز ایک سرگوشی سے پیدا ہوتی ہے، 40 ڈیسی بل آواز کو پرسکون سمجھا جاتا ہے ، 60 ڈیسی بل آواز عام گفتگو سے پیدا ہوسکتی ہے جبکہ 80 ڈیسی بل سے اوپر آواز انسانی سماعت کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے۔ مگر یہاں تو شور ایسا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔

ایک تحقیق کے مطابق ٹریفک کے شور سے بہت سے نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ٹریفک کا شور قوت سماعت میں کمی،ہائپرٹینشن، بے خوابی، بے چینی، امراض قلب اور ہائی بلڈپریشر جیسے خطرناک امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ذرا ذرا سی بات پر لڑنا جھگڑنا معمول بن چکا ہے۔ اپنی غلطی تسلیم نہ کرنے کی ریت پڑ چکی ہے، ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ افراد میں چڑچڑاپن سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ اتنے بے صبرے ہوتے ہیں کہ اشارہ بند ہونے پر بھی مغلظات بکتے ہیں۔ شاید یہ ہماری جلد بازی ہے کہ پاکستان ٹریفک حادثات میں ایشیاء میں پہلے اور دنیا میں 48 ویں نمبر پر ہے۔ بات کہاں سے شروع ہوئی کہاں تک پہنچ گئی۔۔ تاہم گزشتہ نو برس سے میں جس تہذیب کے کھوج میں ہوں ابھی تک توملی نہیں۔۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے؟

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں