انسانی حقوق کمیشن کی توہینِ مذہب کے الزامات میں تشدد، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن نے سال دو ہزار سترہ کی رپورٹ میں ملک میں توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات عائد کر کے تشدد، جبری گمشدگیوں اورماورائےِ عدالت قتل کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لاپتہ بلاگرز: انسانی حقوق کے کمیشن کا وزارتِ داخلہ کو نوٹس

انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بدعنوانی کے الزامات میں سپریم کورٹ سے نااہل قرار پانے کے واقعہ کا ذکر بھی کیا ہے ۔

انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ایک منتخب وزیر اعظم کو صادق اور امین نہ ہونے پر نا اہل قرار دیا گیا ہے اور اس فیصلے سے عدالت کے سیاسی ہونے کا تاثر ملا ہے جس کے فیصلے سیاسی جماعتوں کی تشکیل پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں تحفظ کے لیے قوانین کی موجودگی کے باوجود مجرموں کو سزا ملنے کا تناسب بہت کم ہے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ 2017 میں توہینِ مذہب کے الزام میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

کمیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات سے ہونے والی اموات میں کمی آئی ہے لیکن اقلیتی برادری اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو ہدف بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

کمیشن کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے انٹرنیٹ پر موجود توہین آمیز مواد کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ، توہین مذہب سے متعلق مواد کو انٹرنیٹ پر شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘ایسے ماحول میں جب توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم مار پیٹ کر ملزم کو قتل کر دے۔ گھر میں کام کرنے والی کم سن ملازمہ پر تشدد کیا جائے۔ ایک لڑکے اور لڑکی کو اُن کو اپنا خاندان کرنٹ لگا کر مار دے۔ سرگرم کارکن کو رات و رات اغوا کر لیا جائے اور اُس کا پتہ نہ لگے۔ یہ وہ کہانیاں جو ملک میں انسانی حقوق کی منظر کشی کر رہی ہیں۔’

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2017 میں پاکستان میں مذہب کی تضحیک سے متعلقہ تشدد، مشتعل ہجوم کے حملوں میں اضافہ ہوا اور حکومت نے امتیازی قانونی کارروائیوں کے حق میں صفائیاں دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر مبینہ تضحیک مذہب میں پہلی سزائے موت شیعہ مسلک کے ایک فرد کو سنائی گئی۔

رپورٹ میں ریاست مخالف یا مذہب مخالف ہونے کے الزامات لگانے کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو خاموش کروانے کے لیے مذہب کی تضحیک کے قانون کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

This post is shared by PakPattani.com For Information Purpose Only

اپنا تبصرہ بھیجیں